خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 168

1958ء 168 (20 خطبات محمود جلد نمبر 39 جماعت کے نوجوانوں کو یا د رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد عیسائیت کا استیصال ہے تمہارا فرض ہے کہ جد و جہد اور اپنے نیک نمونہ کے ذریعہ ہمیشہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے کوشاں رہو (فرمودہ 11 جولائی 1958ء بمقام مری ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دو حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ، جمعہ کی نماز سے عموماً چھوٹا ہوتا تھا 1 مگر اس زمانہ میں لوگوں کو زیادہ لمبے خطبے سننے کی عادت ہو گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ عمل کم کرتے ہیں اور خطیب کو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ وہ اپنے خطبہ کولمبا کرے تا کہ لوگوں پر اثر ہو لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں میں عمل کرنے کا بہت زیادہ جذبہ پایا جاتا تھا اور وہ چھوٹی سے چھوٹی بات سنتے ہی فوراً اُس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو جایا کرتے تھے۔ اس لیے ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ اُن کے سامنے زیادہ لمبی بات بیان کی جائے ۔ عربی زبان میں ایک ضرب المثل بھی ہے کہ خَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَ دَلَّ یعنی اچھے سے اچھا کلام وہی ہوتا ہے جو چھوٹے سے چھوٹا بھی ہو اور پھر دلیل بھی اپنے ساتھ رکھتا ہو۔ پس حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی چھوٹی بات پر بھی عمل کر لیا جائے تو