خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 148

1958ء 148 خطبات محمود جلد نمبر 39 آپ جا کر حضرت صاحب کو سمجھائیں کہ یہ مناسب نہیں ۔ غیر لوگ سٹیشن پر جمع ہیں اور وہ اعتراض کریں گے۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میں نے کہا کہ جب آپ کے دل میں ایک اعتراض پیدا ہوا ہے تو آپ خود حضرت صاحب سے اس کا ذکر کریں، ہمیں تو نہیں جاتا۔ آخر وہ خود ہی چلے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد آئے تو انہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا۔ میں نے کہا مولوی صاحب! کہہ آئے؟ کہنے لگے ہاں میں نے کہا تھا کہ یہ مناسب نہیں ۔ کل ہی سارے اخبارات میں یہ بات چھپ جائے گی اور مخالف اعتراض کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنا تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب ! وہ کیا لکھیں گے؟ کیا یہ لکھیں گے کہ مرزا قادیانی اپنی بیوی کو ساتھ لے کر ٹہل رہا تھا ؟ اور اگر وہ یہ بات لکھیں تو اس میں ڈرنے کی کونسی بات ہے۔ غرض اُس وقت پردہ میں اتنی شدت تھی کہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے کر پھرنا لوگوں کی نگاہ میں معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی کوئی پروانہیں کرتے تھے۔ آپ آخری دنوں میں جب لاہور میں مقیم تھے تو با قاعدہ حضرت اماں جان کو ساتھ لے کر سیر کیا کرتے میں تھے باقاعدہ تھے۔ آپ چونکہ خود بھی بیمار تھے اور اعصاب کی تکلیف تھی اور حضرت اماں جان بھی بیمار رہتی تھیں اس خودبھی بیمار تھےاور کی اماں جان بیار رہتی اس لیے جب تک آپ لاہور میں رہے روزانہ فٹن میں بیٹھ کر آپ سیر کے لیے تشریف لے جاتے اور حضرت اماں جان بھی آپ کے ساتھ ہوتیں۔ قادیان میں بھی یہی کیفیت تھی ۔ حضرت اماں جان ہمیشہ سیر کے لیے جاتی تھیں اور ان کے ساتھ ان کی سہیلیاں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں۔ پس پردہ کے یہ معنے نہیں کہ عورتوں کو گھروں میں بند کر کے بٹھا دو ۔ وہ سیر وغیرہ کے لیے جا سکتی ہیں۔ ہاں ! گھروں کے قہقہے سننے منع ہیں لیکن اگر دوسروں سے وہ کوئی ضروری بات کریں تو یہ جائز ہے۔ مثلاً اگر وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیں تو بیشک کریں یا فرض کرو کوئی مقد مہ ہو گیا ہے اور عورت کسی وکیل سے بات کرنا چاہتی ہے تو بیشک کرے۔ اسی طرح اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کرنی پڑے جو مرد نہیں کر سکتا تو عورت تقریر بھی کر سکتی ہے۔ حضرت عائشہ کے متعلق تو یہاں تک ثابت ہے کہ آپ مردوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنایا کرتی تھیں بلکہ خود لڑائی کی بھی ایک دفعہ آپ نے کمان کی۔ جنگِ جمل میں آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر سارے لشکر کی کمان کی تھی ۔ پس یہ تمام چیزیں جائز ہیں۔ جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ