خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 2

خطبات محمود جلد نمبر 39 لیے ہمیں واقفین کی ضرورت ہے۔ 2 1958ء مجھے افسوس ہے کہ جلسہ سالانہ سے پہلے تو بعض نوجوانوں کی درخواستیں آتی رہیں کہ ہم اپنے آپ کو اس سکیم کے ماتحت وقف کرتے ہیں لیکن جب میں نے وقف کی شرائط بیان کیں تو پھر ان میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہم اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہیے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلا نا پڑے گا یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ، دو دو گھنٹہ ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا۔ اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب میری اس نئی سکیم پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب میں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دیئے جائیں جو اُس علاقہ کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ اُن سے متاثر ہوں ۔ وہ انہیں پڑھائیں بھی اور رشد و اصلاح کا کام بھی کریں۔ اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلایا جائے کہ کوئی مچھلی باہر نہ رہے۔ کنڈی ڈالنے سے صرف ایک ہی پچھلی آتی ہے لیکن اگر مہا جال ڈالا جائے تو دریا کی ساری مچھلیاں اس میں آ جاتی ہیں۔ ہم ابھی تک کنڈیاں ڈالتے رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے ایک ایک مچھلی ہی ہمارے ہاتھ میں آتی رہی ہے لیکن اب مہا جال ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس کے ذریعہ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جائے بلکہ ہر گاؤں کے ہر گھر تک ہماری پہنچ ہو۔ پہلے لڑکوں اور لڑکیوں تک ہماری پہنچ ہو، پھر لڑکوں اور لڑکیوں کے ماں باپ تک ہماری پہنچ ہو اور اس کے بعد سارے گاؤں تک ہماری پہنچ ہو جائے ۔ پھر گاؤں سے نکل کر چار چار ، پانچ پانچ میل تک کے دیہات میں ہماری پہنچ ہو جائے اور پھر یہ دائرہ دس دس پندرہ پندرہ میل تک وسیع ہو جائے۔ اس کے بعد اور ترقی کرے اور یہ دائرہ تمہیں تمیں میل تک چلا جائے۔ پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ پینتالیس میل تک چلا جائے۔ پھرا ترقی کرے اور یہ دائرہ ساٹھ میل تک چلا جائے ۔ پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ پچھتر میل تک چلا جائے ۔ پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ نوے میل تک چلا جائے ۔ پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ اور