خطبات محمود (جلد 39) — Page 92
$1958 92 خطبات محمود جلد نمبر 39 اصول کی پابندی کو دیکھتے ہیں اور پھر وہ سمجھتے ہیں کہ ضرور کوئی نہ کوئی بات ایسی ہے جس کے لیے یہ لوگ تکالیف اُٹھاتے ہیں۔پس پہلی اور ضروری چیز یہ ہے کہ اپنے نمونہ سے ثابت کرو کہ جس چیز کو تم نے اختیار کیا ہے اس کی عظمت تمہارے دل میں ہے۔ایک دفعہ ایک نو جوان مجھ سے گفتگو کر رہا تھا۔ایک سوال کے جواب میں وہ کہنے لگا کہ کیا اسلام کی بنیاد داڑھی پر ہے؟ وہ سمجھتا تھا کہ یہ کہیں گے نہیں تو میں کہہ دوں گا کہ پھر اگر میں نے چھوڑ دی تو کیا حرج ہے مگر میں نے کہا کہ اسلام کی بنیاد داڑھی پر تو بیشک نہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر ضرور ہے۔اس کے آگے پھر وہ بات نہیں کر سکا۔میں نے اُسے کہا کہ بیشک داڑھی کا سوال کی کوئی اہم نہیں مگر محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا سوال بے حد اہم ہے۔جب کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا معمولی سا حکم نہیں مان سکتا تو پھر اُس سے یہ کیونکر امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کوئی بڑا حکم مانے گا۔داڑھی نہ رکھنے والے کی تو یہی مثال ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے کہ رسول کریم اللہ علیہ وسلم نے چونکہ مجھ سے ایک پیسہ مانگا تھا اس لیے میں نے نہیں دیا۔یہ بات سننے والے سب اسے پاگل کہیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم سے لاکھ روپیہ مانگا جاتا تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تم ادا کر دیتے۔تم خود اقرار کرتے ہو کہ تم سے جو مانگا گیا وہ بہت تھوڑا تھا اور جب تم اقرار کرتے ہو کہ تم نے وہ بھی پیش نہیں کیا تو پھر جب زیادہ قربانی کا موقع آئے تو تم سے کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔اسلامی تمدن اور اس کے اصول کو دنیا میں قائم کرنا بہت بڑی تبلیغ ہے۔جب لوگ دیکھیں گے کہ یہ لوگ جو دنیا کے نقطہ نگاہ سے وحشی نظر آتے ہیں اپنی بات پر اس لیے قائم ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے اور ہمارے اثر سے باہر ہو گئے ہیں تو وہ ڈریں گے کہ اب ان کا دوسرا قدم یہ ہوگا کہ یہ ہم پر حملہ کریں گے اور دنیا میں وہ شخص یا قوم غالب نہیں ہوا کرتی جس کے گھر پر حملہ ہو بلکہ حملہ آور ہی غالب ہوا کرتا ہے۔مگر حملہ سے یہ مراد نہیں کہ لٹھ مار کر کسی کا سر پھوڑ دیا جائے بلکہ حملہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اصول دنیا کے سامنے پیش کر کے اُن کو قائم کرنے کے لیے جدو جہد کی جائے۔حملہ کے لئے ہمیشہ جرات کی ضرورت ہوتی ہے اور وہی شخص دوسرے کے گھر پر حملہ کرنے کی جرات کر سکتا ہے جس کا اپنا گھر محفوظ ہو، جس کے اپنے گھر میں بہت سے دشمن ہوں وہ کسی کے گھر پر کیا چڑھائی کرے گا۔اسی کی طرح جب ہمارا اپنا تمدن اسلامی تمدن کے خلاف ہو تو دوسروں سے اس کی فضیلت کس طرح منوا سکتے