خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 90

90 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 نے اُن کا دل بدل دیا اور وہ ایمان لے آئے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت حمزہ ایک دن شکار کے لیے باہر گئے ہوئے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو جہل نے مارا اور گالیاں بھی دیں۔آپ کی اس وقت پتھر کی ایک چٹان پر بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ ابو جہل آگے بڑھا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر زور سے ایک تھپڑ آپ کے منہ پر مار دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کچھ نہیں کہا۔آپ خاموشی سے اُٹھے اور گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہ کی ایک لونڈی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔وہ عورت ذات تھی خود تو کچھ نہ کر سکتی تھی منہ میں بڑ بڑاتی ہوئی رہ گئی اور شام تک کی غصہ میں بھری رہی۔شام کو حضرت حمزہ کمان اور ترکش لٹکائے ہوئے گھر آئے ، ہاتھ میں شکار پکڑا ہوا نی تھا اور اس انداز سے چلے آ رہے تھے کہ گویا کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے کر آئے ہیں۔جب گھر کے اندر داخل ہوئے تو وہ لونڈی جو مسلمان نہ تھی مگر اس قربانی کا نظارہ دیکھ چکی تھی کہ لوگ مارتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ آپ خدا کا نام لیتے ہیں اُس نے حضرت حمزہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ بڑے سپاہی بنے پھرتے ہو کیا کام کر کے آئے ہو؟ تمہارے بھتیجے کو آج ابو جہل نے مارا صرف اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیتا تھا۔تم کس برتے پر بہادر بنے پھرتے ہو؟ حضرت حمزہ نے شکار کے شوق میں کبھی یہ نظارہ دیکھا ہی نہ تھا کہ مکہ میں کیا فساد برپا ہے۔آپ نے لونڈی سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اُس نے کہا کہ اس طرح وہ اکیلا بیٹھا ہوا تھا کہ ابو جہل نے اُسے مارا۔یہ سُن کر آپ نے شکار کا سامان نہیں اتارا ان سی طرح کمان ہاتھ میں پکڑے گئے اور جا کر وہی کمان ابو جہل کے منہ پر ماری اور کہا کہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارتے ہو! اگر جرات ہے تو آؤ مجھے مارو۔یہ دیکھ کر لوگ اُٹھے کہ ہیں ہیں یہ کیا؟ وہ تو دین میں تغیر کرتا ہے۔اس پر حضرت حمزہ نے کہا کہ اچھا! اگر وہ دین میں تغیر کرتا ہے تو سُن رکھو کہ میرا بھی وہی دین ہے۔آؤ! اگر لڑ نا چاہتے ہو تو مجھ سے لڑلو۔5 تو یہ سنجیدگی ہی تھی جس کا یہ اثر تھا اور خشیت تھی جو لونڈی نے پیدا کر دی تھی۔وہ دیکھ رہی تھی کہ آخر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا قصور کیا ہے۔وہ کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کرتے کسی کا مال نہیں چھینتے، کسی شخص کو اُس کے کسی حق سے محروم نہیں کرتے صرف خدا کا نام لیتے ہیں اور یہ لوگ محض اس غرور میں کہ یہ طاقتور ہیں آپ کو مارتے ہیں۔اُن کے اس مارنے نے حضرت حمزہ کی شرافت کو گھائل کر دیا اور انہوں نے کہا کہ اگر انسانیت اس قدر گر گئی ہے تو جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے تکلیف اُٹھار