خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 89

1958ء 89 خطبات محمود جلد نمبر 39 مرکزی جگہ ہے اور یہاں کی جماعت کو خاص اہمیت حاصل ہے اس لیے یہاں کے دوستوں کو بھی اپنے فرائض بہت زیادہ تندہی سے ادا کرنے چاہیں مگر باجود یکہ میں ہر سفر کے موقع پر یہاں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ تبلیغ کرو اور جماعت کو بڑھاؤ جب بھی میں آتا ہوں نئی تجاویز تو بہت پیش ہوتی ہیں لیکن عملی نتیجہ بہت کم نظر آتا ہے۔ آپ لوگ جو یہاں موجود ہیں غور کریں کہ آپ نے تبلیغ میں کیا کوشش کی ہے اور خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے کیا جدو جہد عمل میں لائے ہیں ۔ بعض لوگ یونہی کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں، لوگ ہماری بات سنتے ہی نہیں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں یہ صحیح نہیں یہ انسانی فطرت کا غلط مطالعہ ہے۔ انسانی فطرت کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ عجوبہ کے طور پر بھی دوسرے کی بات سنتا ہے۔ غلطی ہماری ہے کہ جس رنگ میں ہم بات کو پیش کرتے ہیں وہ سننے کے قابل نہیں ہوتی ۔ ہماری جماعت میں عام طریق یہی ہے کہ کسی کو تبلیغ کرتے وقت وفات مسیح کو شروع کر دیں گے یا ضرورت نبوت کا مسئلہ پیش کر دیں گے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ بعض دماغ اتنے زنگ آلود ہوتے ہیں کہ کی ان میں ایسی باتوں کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہوتی ۔ بھلا جو شخص خدا کا ہی قائل نہیں یا نبوت کا قائل نہیں وہ ان باتوں میں کیا دلچسپی لے سکتا ہے۔ مسلمانوں میں کئی لوگ ایسے ہیں جو یوں تو رسول کریم میں لے سکتا ہے مسلمانوں میں جو تور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑی غیرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہوتے ہیں۔ یونہی ماں باپ سے سن کر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ورنہ اسلام سے اُن کو کوئی ہے وابستگی نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں پہلے خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا کرنی چاہیے تا وہ دینی باتوں کو سننے لگ جائیں اور خشیت سب سے بہتر نمونہ سے پیدا کی جاسکتی ہے باتوں سے نہیں ۔ جب کوئی دیکھے کہ اس شخص میں ایسی روحانیت ہے جو دوسروں میں نہیں تو اُس کا دل خود بخود اُس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ رس حضرت حمزہ کے اسلام لانے کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اُن تکالیف کو دیکھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جا رہی تھیں اور پھر اُس سنجیدگی کو دیکھا جس سے آپ اُن کو برداشت کرتے جارہے تھے اور اس طرف بھی اُن کو ایک غلام اور جاہل عورت نے متوجہ کیا۔ آپ نے کوئی دلائل نہیں سنے کہ کوئی خدا ہے یا نہیں ، اور کوئی الہام نازل ہوتا ہے یا نہیں ، صرف اس بات کو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنجیدگی کے ساتھ اپنی بات پر قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا کا غم مجھ ہی کو ہے۔ اس چیز