خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 321

$1959 321 خطبات محمود جلد نمبر 39 نے فرمایا آپ کچھ دیر آرام کرلیں میں آپ کے لیے دودھ منگواتا ہوں۔اُس نے کہا نہیں نہیں ، میں ڈیوٹی پر آیا ہوں اس لیے میں ایسا نہیں کر سکتا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چھوٹی مسجد میں یہ واقعہ سنایا اور فرمایا دیکھو! انگریزوں میں اپنی ڈیوٹی کا کیسا احساس پایا جاتا ہے۔اگر کوئی ہندوستانی ہوتا تو فورآمان جاتا بلکہ وہ خود کہتا کہ مجھے کچھ دودھ وغیرہ منگوا دیں لیکن لیمار چنڈ انگریز تھا اُس نے کہا میں آپ کی تلاشی کے لیے آیا ہوں اور گورنمنٹ کی طرف سے ڈیوٹی پر ہوں اس لیے میرے لیے جائز نہیں کہ آپ کی کے گھر سے کوئی چیز لے کر کھاؤں۔حکیم محمد عمر صاحب بھی اُس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ بڑ بولے واقع ہوئے ہیں جب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ لیمار چنڈ کا سر د ہلیز سے ٹکرایا ای تو حکیم صاحب فوراً بول پڑے کہ حضور ! اُس کے سر سے خون بھی نکلا تھا یا نہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے اور فرمایا حکیم صاحب! میں نے اُس کی ٹوپی اٹھا کر نہیں دیکھا تھا کہ اُس کے سر میں سے خون بھی نکلا ہے یا نہیں؟ اب دیکھ لو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرے چار ہزار سال ہو چکے تھے مگر چونکہ آپ کا بھی ابراہیم ہونے کا دعوی تھا اس لیے گودشمنوں نے آپ کے لیے ہر قسم کی آگ بھڑکائی ، آپ کے مکان کی تلاشی لی اور پوری کوشش کی کہ کسی طرح کی آپ پر کوئی الزام لگے اور آپ گرفتار ہو جائیں لیکن اُن کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔لاہور میں ایک ڈپٹی برکت علی خان صاحب تھے جو شاہ جہان پور کے رہنے والے تھے اور مسلمانوں کے بہت خیر خواہ تھے۔آریوں نے مشہور کر دیا تھا کہ ڈپٹی صاحب کے گھر میں لیکھرام کا قاتل چھپا ہوا ہے۔اس زمانہ کے ایک دوست اب بھی موجود ہیں اُن کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور وہ انڈیا میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی رہ چکے ہیں۔وہ مری میں مجھ سے ملنے آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں اُن دنوں سب انسپکٹر پولیس تھا اور لاہور میں تھا۔میں نے سنا کہ سپر نٹنڈنٹ پولیس نے ڈپٹی صاحب کی کوٹھی کے ارد گرد گھیرا ڈالا ہوا ہے۔میں بھی وہاں گیا اور دیکھا کہ ہزاروں مسلمان جوش میں وہاں کھڑے ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ جس شخص نے بھی لیکھرام کو قتل کیا ہے اس نے اسلام کی خدمت کی ہے اس لیے وہ جوش میں وہاں کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم سب قتل ہو جائیں گے لیکن ڈپٹی صاحب کے