خطبات محمود (جلد 39) — Page 315
$1959 315 خطبات محمود جلد نمبر 39 راکٹ پھینکنے پر فخر کر رہا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی مٹھی میں سب چیزیں ہیں۔وہ چاند اور دوسرے سیاروں کو بھی پیس سکتا ہے اور جب وہ چاند اور دوسرے سیاروں کو بھی پیس سکتا ہے تو وہ کسی ملک کو بھی ، چاہے وہ روس ہی ہو پیس سکتا ہے۔پس کسی طاقت کی مدد پر ہندوستان کا غرور اور فخر کرنا لغو بات ہے۔اگر مشرق اور مغرب کی تمام طاقتیں بھی بھارت کی مدد کریں تو وہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتا۔وہ اس کے مقابلہ میں بہر حال تباہ ہو گا۔اُس کے لیے تباہی سے بچنے کا صرف ایک ہی رستہ ہے کہ وہ کمزوروں پر ظلم نہ کرے اور اُن کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دے۔بہر حال خدا کے مقابلہ میں اپنے ملک کی حکومت کو کھڑا کرنا اُس سے غداری کرنے کے مترادف ہے۔پرتاپ ہم پر اعتراض کر رہا ہے لیکن دراصل وہ اپنی حکومت کو خدا کے مقابلہ میں کھڑا کر رہا ہے۔ہم ہندوستان کے دشمن نہیں پرتاپ ہندوستان کا دشمن ہے جو اسے ایسے مقام پر کھڑا کرنا چاہتا ہے جہاں وہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔میں پرتاپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میرے احسان کو یادر کھے اور جماعت کے خلاف غلط پرو پیگنڈا کرنے سے باز آئے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب آریوں نے اس پر رکیک حملے کیے تھے تو میں نے اُن کے خلاف احتجاج کیا تھا۔اب پرتاپ اس بات کو تو بھول گیا اور اسے صرف یہ بات یادرہ گئی کہ ہم نے قادیان میں احمدیوں کو قتل نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کسی کے ہاں کوئی مہمان آیا۔میزبان نے مہمان کی بہت خاطر مدارات کی اور کہا آپ کا یہ احسان تھا کہ آپ میرے گھر آئے اور مجھے خدمت کا موقع دیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی پوری خدمت نہیں کر سکا۔مہمان کہنے لگا آپ مجھ پر اتنا احسان نہ جتائیں آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔میں نے آپ پر احسان کیا ہے۔جب آپ میرے لیے کھانا لینے جاتے تھے تو اُس وقت اگر میں آپ کے گھر کو آگ لگا دیتا تو آپ کیا کر سکتے تھے؟ اسی طرح پر تاپ ہمارے احسانات کو تو بھول گیا اور اسے صرف یہ بات یاد رہی کہ ہم نے قادیان والوں کو قتل نہیں کیا“۔(الفضل 17 جنوری 1959ء) 1 مس مرد ولا سارا بائی: Mirda sarabi 1911 ء-1974 ء۔ہندوستان کی Sarabhai): آزادی کی سرگرم رکن اور سیاستدان۔ان کا تعلق احمد آباد ہندوستان کی سارا بائی انڈسٹریلسٹ فیملی سے تھا۔وکی پیڈیا۔زیر لفظ 'Mirdula Sarabhai)