خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 231

$1958 231 خطبات محمود جلد نمبر 39 كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ 1 یعنی تیرے پاس دور دراز سے پیدل چل کر بھی لوگ آئیں گے اور ایسی اونٹنیوں پر بھی سوار ہو کر آئیں گے جو لمبے سفر کی وجہ سے دبلی ہوگئی ہوں گی اور وہ ایسے راستوں پر سے گزرتی ہوئی آئیں گی جن میں کثرت سفر سے گڑھے پڑے ہوئے ہوں گے۔اس زمانہ میں چونکہ ریلیں اور ہوائی جہاز نکل آئے ہیں اس لیے لوگوں کو اس مثال سے غلطی نہیں کھانی چاہیے۔میں نے خود اُس زمانہ میں حج کیا ہے جب ابھی ہوائی جہاز نہیں نکلے تھے اور جدہ کی سے مکہ تک کا سفر میں نے اونٹوں پر ہی کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ واقع میں رستوں میں گڑھے پڑے ہوئے تھے اور گرد اڑتی رہتی تھی۔اگر کوئی آسودہ حال ہوتا تو وہ اونٹ کی بجائے گدھا لے لیتا۔گدھا عربوں کی مرغوب ترین سواری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گدھا مصر میں زیادہ ہوتا ہے اور چونکہ عربی میں دولت زیادہ تر مصر سے ہی آئی تھی اِس لیے مصری رواج اور دستور کو بھی انہوں نے اپنا لیا۔میں نے ایک دفعہ غار ثور جانے کا ارادہ کیا تو سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور کہنے لگے کہ میرا ایک دوست ہے۔میں اُس کا اصطبل آپ کو دکھاتا ہوں۔آپ اپنی سواری کے لیے کوئی چیز پسند کر لیں۔چنانچہ ہم وہاں گئے۔میں نے دیکھا کہ وہاں کی اُس کا ایک گدھا تھا۔اُسے دیکھ کر تو وہ خود ہی کہنے لگے کہ یہ آپ کے لیے مناسب نہیں۔پھر ہم نے ایک گھوڑا دیکھا مگر اُسے بھی چھوڑا۔آخر کہنے لگے کہ خچر لے لیں کیونکہ خچر کی زیادہ قیمت ہوتی ہے اور بڑے بڑے امراء اس پر سوار ہوتے ہیں۔چنانچہ ہم نے خچر لے لی۔جب ہم غار ثور کی طرف جانے لگے تو میرے ساتھ ایک تو نا نا جان مرحوم تھے اور ایک عبدالمحی عرب تھے۔عبد المحی عرب کو میں نے گدھا لے دیا تھا اور خود خچر پر سوار ہوا مگر جب ہم جا رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ عبد المحي صاحب عرب کا گدھا ہم سے کوئی دو میل آگے نکل گیا ہے۔خچر کو ہم بہتیر امار میں مگر وہ کی چلے ہی نہ۔آخر میں نے بھی گدھا لے لیا۔اس پر سوار ہو گیا حالانکہ وہ خچر تین ہزار روپیہ کی تھی گدھا وہاں نو سویا ہزار کومل جاتا ہے۔بعض گدھے پندرہ پندرہ سو تک بھی ملتے ہیں اور گھوڑ استرہ اٹھارہ سو میں مل جاتا ہے۔بہر حال عمدہ خچر تین ہزار روپیہ میں ملتی ہے مگر باوجود اچھی خچر ہونے کے گدھا اُس سے تیز چلتا تھا۔اُس زمانہ میں امراء زیادہ تر خچروں پر سواری کرتے تھے اور باقی اونٹوں یا گدھوں پر سواری کرتے۔اونٹ عرب کی جان ہے اور اسی کا حوالہ دے کر قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے