خطبات محمود (جلد 39) — Page 216
216 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 بندہ تھا خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ ان کے آباء و اجداد محض توحید کو قائم رکھنے کے لیے تین سو سال تک غاروں میں رہے۔تم ایک دن بھی غار میں نہیں رہ سکتے مگر وہ برابر تین سو سال تک غاروں میں اپنی زندگی بسر کرتے رہے۔وہ چوروں کی طرح رات کو باہر نکلتے اور لوگوں سے چھپ چھپ کر کھانے پینے کی چیزیں اپنے لیے مہیا کرتے ، اندر ہی اُن کے گرجے تھے ، اندر ہی اُن کی شادیاں ہوتی تھیں اور اندر ہی اُن کے بچے پیدا ہوتے تھے۔نا معلوم کتنی عورتیں وضع حمل کے وقت دایوں کے نہ ملنے کی وجہ سے مرگئی ہوں گی اور کتنے بچے تلف ہوئے ہوں گے۔مگر انہوں نے سالہا سال ان تکلیفوں کو برداشت کیا اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو چھوڑنے کا انہوں نے خیال تک نہ کیا۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ 1953ء میں چند مولویوں نے اپنے مخالفانہ وعظوں سے لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا دیا تو اس مخالفت کی وجہ سے کئی احمدی گھبرا گئے اور وہ شکایتیں کرنے لگے کہ ہمارا پانی بند کر دیا گیا ہے یا ہمیں فلاں فلاں تکلیف پہنچائی جارہی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ اُن دنوں سیالکوٹ کے ضلع سے ایک عورت اکیلی ربوہ پہنچی اور اُس نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں ایک ہی کنواں ہے جس سے احمدیوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا ہے اور اس وجہ سے جماعت کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں۔میں نے مردوں سے کہا کہ جاؤ اور ربوہ خبر دو مگر انہوں نے کہا کہ کون کی جائے رستہ بڑا خطرناک ہے۔اس پر میں اکیلی آگئی تا کہ میں آپ کو حالات سے باخبر کروں۔اُن کے دنوں اتفا ق چار پانچ دوست باہر سے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن کو کار دے کر کہا کہ فوراً جاؤ اور پانی کھلوا کر آؤ۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے پانی کھلوایا بلکہ ان کے جانے سے اُس گاؤں کے لوگ اتنے ڈر گئے کہ انہوں نے کہا کہ احمدیوں کو پانی لینے سے کون روکتا ہے۔کسی نادان لڑکے نے انہیں روکا ہوگا ہم نے تو نہیں روکا۔ان کا حق ہے کہ آئیں اور پانی لے جائیں۔مگر اتنی معمولی تکلیف پر ہی بعض لوگ مرتد ہو گئے۔ایک پرانے احمدی تھے جو 70، 75 سال کی عمر کے تھے اُن کے پاس بھی گاؤں کے لوگ پہنچے اور کہنے لگے کہ چلو اور مسجد میں چل کر تو بہ کرو۔اُس نے کہا ہم تو ہر روز تو بہ کرتے ہیں۔آج مجھ سے نئی تو بہ کونسی کروانے لگے ہو؟ وہ کہنے لگے ہماری مراد اس تو بہ سے نہیں بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم احمدیت سے تو بہ کرو۔وہ کہنے لگا میں اپنے سارے گناہوں سے تمہارے سامنے تو بہ کرتا ہوں۔لوگ