خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 7

$1958 7 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے بہت آگے نکل جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی بی۔اے، بیٹی ہوتے ہیں مگر جب ان کے سپر د کوئی کام کیا جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے یہ نہیں ہو سکتا ، ہماری طبیعت کا اس کام سے کوئی لگا ؤ نہیں لیکن مولوی حسن علی صاحب صرف مڈل پاس تھے اور انہوں نے وہ کام کیا جو آجکل کے بی۔اے، بی۔ٹی بھی نہیں کر سکتے۔اُن کا یہ کہنا کہ فلاں کام ہم سے نہیں ہوسکتا یا ہماری طبیعت اس طرف راغب نہیں محض دھوکا اور فریب ہوتا ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے باوجود ہم اپنی طبیعت کو اس طرف راغب کرنا نہیں چاہتے۔یہ اصل فقرہ ہے جو انہیں کہنا چاہیے لیکن وہ یہ فقرہ نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس طرف لگاؤ ہی نہیں حالانکہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کو اعلیٰ قوتیں دے کر بھیجا ہے اور اسے احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے۔1 اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس طرف لگاؤ نہیں تو یہ محض بہانہ ہوتا ہے۔دراصل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ ہم فلاں کام نہیں کرتے تو دوسرے ناراض ہوں گے۔اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس سے لگاؤ نہیں۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے اندر روحانیت پیدا کرو اور تقوی پیدا کرو۔بھلا یہ تو دیکھو کہ اب تو صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید کچھ نہ کچھ دیتی ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تھا تو اُن کے پاس کونسا روپیہ تھا۔جب خدا تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ اُٹھ اور دنیا سے کہہ کہ میں مسیح موعود ہوں تو آپ کے پاس کوئی پیسہ نہ تھا پھر بھی آپ کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو کہنا شروع کر دیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور اس کی پہلی جزا آپ کو یہ ملی کہ آپ کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے پتھر پڑنے شروع ہوئے لیکن آپ پھر بھی کام کرتے رہے اور کبھی بھی خدا تعالیٰ سے یہ نہ کہا کہ اے اللہ! تو نے مجھے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔کھڑا تو تو نے مجھے مسیح موعود بنا کر کیا تھا اور یہاں یہ صورتِ حال ہے کہ چاروں طرف سے پتھر پڑ رہے ہیں۔آپ ایک دفعہ لا ہور تشریف لے گئے۔وہاں ایک اور شخص بھی تھا جس نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہوا تھا۔اُس کا بھائی بعد میں تو بہ کر کے احمدی ہو گیا تھا۔بڑا سادہ آدمی تھا ، داڑھی اُس نے سکھوں والی رکھی ہوئی تھی۔وہ قادیان میں بھی آیا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں لا ہور گیا تو وہ دوا ندھے پکڑ کر لے آیا اور کہنے لگا یہ میرا شکار ہیں۔وہ سارا دن اُن کی خدمت کرتا تھا، کھانا کھلاتا تھا، اُن کے کپڑے