خطبات محمود (جلد 39) — Page 178
$ 1958 178 خطبات محمود جلد نمبر 39 حکومتِ پاکستان کو لکھا کہ مذہب کے معاملہ میں لوگوں کو جبر سے کام نہیں لینا چاہیے۔اسی طرح ہماری جماعت کے دوست اُس سے ملنے گئے تو وہ کہنے لگا کہ میرے پاس تو آپ کی جماعت کا سارا لٹریچر موجود ہے۔ڈاکٹر سکارنو نے بھی احمدیوں کی تعریف کی اور جب مولویوں نے اس پر اعتراض کیا تو اُس نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں کسی اسلامی حکومت کا پریذیڈنٹ رہنے کے قابل ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں جماعت احمدیہ کا لٹریچر نہ پڑھوں۔کیونکہ اسلام کی خوبیاں مجھے صرف اس جماعت کے لٹریچر سے معلوم ہوتی ہیں۔اسی طرح جب اُسے قرآن دیا گیا تو اس نے شکریہ کے ساتھ لیا اور کہانی کہ اس کے ساتھ انڈیکس بھی ہونا چاہیے تا کہ اس کے مضامین کی تلاش میں آسانی ہو۔غرض ہماری جماعت کے افراد کو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی تبلیغ پر زور دینا چاہیے۔اس وقت ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے دس لاکھ سے بہت اوپر نکل چکی ہے لیکن اگر دس لاکھ بھی ہو تب بھی اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کر کے تھوڑے عرصہ میں ہی ہماری تعداد کہیں سے کہیں پہنچ سکتی ہے۔پاکستان کی آبادی اس وقت آٹھ کروڑ ہے اور دنیا میں عام اصول یہ ہے کہ اگر کسی من جماعت کا تناسب کسی ملک کی آبادی میں ایک فیصدی تک پہنچ جائے تو وہ ملک پر غالب آ جاتی ہے۔جرمنی میں جب پروٹسٹنٹ فرقہ کا آغاز ہوا اور لوتھر نے کام شروع کیا تو شروع میں وہ بہت تھوڑے تھے لیکن جب وہ اپنے ملک کی آبادی کا ایک فیصدی حصہ بن گئے تو سارے ملک پر غالب آ گئے۔اسی طرح اگر پاکستان میں ہماری تعداد بڑھ جائے اور ہماری منظم جماعت آبادی کا ایک فیصدی ہو جائے تو ہماری جماعت کی طاقت غیروں کو بھی تسلیم کرنی پڑے گی۔پس ہماری جماعت کو تبلیغ کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کرنی چاہیں کہ وہ ان کی زبانوں میں اثر پیدا کرے۔اسی طرح مبلغوں کے لیے بھی دُعائیں کرون کیونکہ وہ ساری جماعت کا کام کر رہے ہیں اور اُن کے کارناموں کو ہماری جماعت کا ہر فرد اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔وہ بسا اوقات غیروں کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ کہتا ہے کہ ہم غیر ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں ، ہم غیر ممالک میں مساجد بنارہے ہیں لیکن اُس کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ کی بعض دفعہ وہ چندوں میں بھی پورا حصہ نہیں لے رہا ہوتا یا اگر چندہ دیتا ہے تو اپنے آپ کو اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف نہیں کرتا حالانکہ ہمارے باہر کے مبلغ اب شور مچارہے ہیں کہ اُن کی مدد کے لیے اور آدمی