خطبات محمود (جلد 39) — Page 6
$1958 6 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی مشترکہ احمدی آبادی مغربی پاکستان کی احمدی آبادی سے کم نہیں۔خدا تعالیٰ کو اس بات سے کوئی کی غرض نہیں کہ سارے احمدی ایک ہی ملک میں پائے جائیں بلکہ وہ جہاں چاہتا ہے احمدیت کو پھیلا دیتا ہے۔پہلے مغربی پاکستان نے احمدیت کی طرف توجہ دی تو خدا تعالیٰ نے مغربی پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کو بڑھا دیا۔پھر ایسٹ پاکستان نے اس طرف توجہ کی تو خدا تعالیٰ نے وہاں ایک بہت بڑی تعدا داحمدیوں کی پیدا کر دی۔پھر اس نے احمدیت کو سیرالیون، غانا، نائیجیریا، ٹرینیڈاڈ ، برٹش گی آنا ، فرنچ گی آنا، ڈچ گی آنا ، یو۔ایس۔اے، ویسٹ اور ایسٹ افریقہ اور دوسرے علاقوں میں پھیلانا شروع کر دیا۔ان سارے علاقوں کی احمدی آبادی کو ملا لیا جائے تو غالباً وہ مغربی پاکستان کی احمدی آبادی سے کم نہیں ہوگی۔پھر بیرونی ممالک میں تو ہیں تمیں سال سے تبلیغ ہو رہی ہے اور یہاں ستر سال سے تبلیغ ہورہی ہے اور پھر جتنے مبلغ اس ملک کو ملے ہیں دوسرے ممالک کو نہیں ملے۔مثلاً حافظ روشن علی صاحب تھے، مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں اور پھر اور بہت سے مبلغ ہیں جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہے یہ سب اسی ملک میں تبلیغ کرتے رہے۔پرانے زمانہ میں قاضی امیر حسین صاحب تھے، مولوی سید سرور شاہ صاحب تھے، مولوی برہان الدین صاحب تھے اور شیخ غلام احمد صاحب تھے۔یہ لوگ باہر جاتے تھے اور تبلیغ احمدیت کرتے تھے۔پھر پروفیسر عبد القادر صاحب کے چا مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری تھے۔ان کی تعلیم صرف مڈل تک تھی مگر انگریزی زبان میں انہیں اتنی مہارت تھی کہ ایک دفعہ مدراس میں ان کا لیکچر ہوا تو گورنر ان کا لیکچر سننے کے لیے آیا اور بعد میں اس گورنر نے کہا کہ ہم بھی اتنی اچھی انگریزی نہیں بول سکتے جتنی اچھی انگریزی مولوی صاحب نے بولی ہے۔انہوں نے ایک کتاب تائید حق بھی لکھی ہے جو نہایت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔میں نے ایک دفعہ اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو میں اُس وقت تک سویا نہیں جب تک کہ میں نے اس ساری کتاب کو ختم نہ کر لیا۔مولوی صاحب شروع شروع میں ایمان لائے۔پھر احمدیت کی تبلیغ کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں پھرتے رہے۔ان کی تعلیم معمولی تھی مگر ذاتی مطالعہ سے انہوں نے اپنی لیاقت بڑھالی تھی۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی ذاتی مطالعہ سے اپنی قابلیت بڑھا سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمت ہو۔جب ہمت گر جاتی ہے تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن اگر کوئی تھوڑا سا کام کرنے والا آدمی بھی ہو تو میں نے دیکھا ہے کہ وہ دوسروں