خطبات محمود (جلد 39) — Page 163
$1958 163 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی سرحد کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں تو ہندوستان کی فوجیں لازماً اسے پاکستان کے اندر داخل ہونے کا بہانہ بنالیں گی اور وہ لوگ شور مچادیں گے کہ ہم تو محض دفاع کے لیے اندر آئے ہیں۔یہ کہہ دینا کہ یہ جتھے نہتے ہوں گے اور مقابلہ نہیں کریں گے ایک بے حقیقت بات ہے۔اگر نہتے آدمی بغیر پاسپورٹ لیے امریکہ یا انگلستان میں داخل ہوں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دیں گے؟ اگر پاسپورٹ کے بغیر ان کے ملک میں کوئی شخص داخل ہو تو وہ فورا اسے گرفتار کر لیں گے۔اگر اکیلا آدمی ہو گا تو پولیس اسے پکڑلے گی اور اگر دو چار سو یا ہزار دو ہزار آدمی ہوں گے تو فوج ان پر گولی چلا دے گی اور کوئی غیر جانبدار یہ نہیں کہے گا کہ حکومت نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ہر شخص کہے گا کہ یہ اس کے مستحق تھے کیونکہ انہوں نے خود قانون تو ڑا ہے۔پس اگر ہمارے آدمی سرحد کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں تو خواہ وہ بالکل نہتے ہوں اور خواہ وہ کسی کا مقابلہ نہ کریں پھر بھی غیر قوموں کی ہمدردی ہندوستان کے ساتھ ہوگی اور پاکستان کی ایسا چھوٹا اور کمزور ملک ہے کہ وہ غیر قوموں کی آواز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روس کی ایسا کر رہا ہے، امریکہ ایسا کر رہا ہے مگر وہ بڑی بھاری طاقتیں ہیں جو غیر قوموں کے اعتراضات کی کوئی پر وا نہیں کرتیں۔پھر روس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے ملک میں مگر پاکستان جس ملک کا ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ لڑائی کرنے سے وہ بچنا چاہتا ہے وہ اس سے پانچ سات گنا بڑا ہے۔پاکستان کی کلی آبادی آٹھ کروڑ ہے اور ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ ہے۔گویا وہ پاکستان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔پھر سامان بھی ابھی تک ہندوستان کے پاس زیادہ ہے۔اگر صرف تعداد کی کمی بیشی کا سوال ہو لیکن سامان ایک جیسا ہو تب بھی ایمان اور یقین کی طاقت ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے بڑی بڑی کی طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ صحابہ کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس نوعیت کے سامان صحابہ کے پاس تھے ویسے ہی کفار مکہ کے پاس تھے اور ویسے ہی رومیوں اور ایرانیوں کے پاس تھے۔یہ نہیں تھا کہ ایک طرف تیر ہو تو دوسری طرف بندوق ہو یا ایک طرف تلوار ہو تو دوسری طرف مارٹر ہو۔اگر تلوار تھی تو دونوں طرف تلوار تھی ، اگر نیزے تھے تو دونوں طرف نیزے تھے ، اگر گھوڑے تھے تو دونوں طرف گھوڑے تھے ،اگر اونٹ تھے تو دونوں طرف اونٹ تھے۔مسلمان صرف تعداد میں کم تھے مگر چونکہ ان کے اندر ایمان راسخ پایا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ ایک مومن دس کفار کا مقابلہ