خطبات محمود (جلد 39) — Page 150
$1958 150 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوں۔اور فرشتوں سے وہی لوگ ملتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے کامل فرمانبردار ہوں۔پس ان لوگوں کی مت پر وا کرو اور اس بات سے نہ ڈرو کہ اگر یہ لوگ الگ ہو گئے تو کیا ہو جائے گا۔اگر ان میں سے کی علیحدہ ہو گا تو اُس کی جگہ ہزار آدمی تم میں شامل ہوگا بلکہ آئندہ ان کی جگہ ہزاروں بڑے بڑے مالدار تم میں شامل ہوں گے اور پھر ان کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جائے گی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر تم میں حیا پیدا ہوگئی تو تمہارے عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کا شریف طبقہ بھی تمہاری اقتدا کرنے پر مجبور ہوگا بلکہ بعض باتوں میں تو اب بھی ہماری جماعت کے نمونہ کا لوگوں پر بڑا بھاری اثر ہے۔حال ہی میں ہماری جماعت کا ایک شخص فوت ہوا ہے۔وہ بالکل ان پڑھ تھا مگر احمدیت سے نہایت ہی اخلاص رکھتا تھا۔ربوہ کے پاس ہی ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اور پرانے زمانہ سے کی قادیان آیا جاتا کرتا تھا۔اُس کے باپ اور بھائی وغیرہ سب چور تھے اور علاقہ کی بھینسیں نکال لایا ای کرتے تھے۔اس نے خود اپنا حال سنایا کہ اس کے بھائی ایک دفعہ کسی کی بھینس پچرا کر لے آئے۔جنگلی لوگ کھوج لگانے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔وہ نشانات دیکھتے دیکھتے ہمارے گھر پہنچ گئے اور کہنے لگے کہ ہماری بھینس دے دو۔انہوں نے قسمیں کھانی شروع کر دیں کہ ہم تمہاری بھینس چرا کر نہیں لائے۔لوگوں نے کہا ہمیں تمہاری قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ہاں ! اگر تمہارا فلاں بھائی جو مرزائی ہو چکا ہے کہہ دے کہ تم ہماری بھینس نہیں لائے تو ہم اس کی بات مان لیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ تو کافر ہے۔اس کا فرکا کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔وہ کہتے کہ وہے تو کا فرمگر ہمیں تمہاری قسموں پر اتنا اعتبار نہیں جتنا اس کا فر کی زبان پر ہے۔پھر اس نے کہا کہ آخر وہ میرے پاس آئے اور مجھے خوب مارا اور کہا کہ خبردار! جو باہر جا کر یہ کہا کہ بھینس ہمارے پاس ہے۔اور جب تسلی ہو گئی کہ اب یہ ہمارا راز افشاء نہیں کرے گا تو مجھے باہر لائے اور پوچھا کہ بتاؤ کیا ہم بھینس لائے ہیں؟ میں نے کہا کہ اگر میں نے کچھ کہا تو تم خفا ہو جاؤ گے۔انہوں نے کہا نہیں بولو کیا ہم بھینس لائے ہیں؟ میں نے کہا ہاں لائے تو ہو، وہ اندر کھڑی ہے۔انہوں نے پھر مجھے اندر لے جا کر مارا اور کہا ہم نے جو کہا تھا کہ نہ بتانا پھر تم نے کیوں بتایا ؟ میں نے کہا کہ وہ اندر جو کھڑی ہے تو میں کیا کرتا؟ غرض احمدیوں کی سچائی کا یہ اثر تھا کہ لوگ کہتے کہ یہ ہے تو کا فرمگر جو بات کہتا ہے سچ کہتا ہے۔تو اچھے نمونہ کا دوسرے لوگوں پر بڑا بھاری اثر پڑتا ہے۔میں جن دنوں اُمم طاہر کی بیماری کے سلسلہ میں لاہور ٹھہرا ہوا تھا ایک روز رات کے دس بجے