خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 88

88 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 آٹو کریسی (AUTOCRACY) ہے یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کی بادشاہت ایک یا چند اشخاص تک محدود کر دی ہے مگر مسلمانوں اور یہودیوں میں جو شرک ہے وہ ڈیما کریسی (DEMOCRACY) ہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ سے خدائی صفات چھین کر آپس میں بانٹ لی ہیں لیکن خدا تعالیٰ سے بہر حال بغاوت کی گئی ہے۔کسی راجہ کے خلاف بغاوت ہو جائے تو وہاں خواہ کوئی اور راجہ اپنی حکومت قائم کرے یا لوگ کوئی پارلیمنٹ بنالیں اُس کی حکومت تو بہر حال مٹ جائے گی۔اس زمانہ میں سوائے اس قوم کے جو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے اور رہے گی اس کی طرف سے ہدایت کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور نہ ہوگا۔قرآن کریم ایک سر بمہر ہدایت ہے اور اس کے سمجھنے کے لیے ایک قلب مطہر کی ضرورت ہے۔تمام دنیا خدا تعالیٰ کی بادشاہت سے خالی کو ہے بلکہ اس کی بادشاہت کے خلاف دنیا میں ایک عام بغاوت ہو رہی ہے اور اس کے سپاہی آرام کے ساتھ بیٹھے ہیں اور انہیں پتا ہی نہیں کہ ملک تباہ ہو چکا ہے۔اگر واقع میں وہ خدا تعالیٰ کے سپاہی ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ گھروں میں بیٹھے رہیں۔کسی کی پچپہ بھر زمین پر کوئی قبضہ کر لے تو زمینداروں میں خون ہو جاتے ہیں اور درجنوں آدمی قتل ہو جاتے ہیں۔بلکہ کسی کے درخت کی شاخ اگر دوسرے کے کھیت میں چلی گئی ہو اور وہ اُس کو کاٹ لے تو اسی پر خون ہو جاتے ہیں۔کاٹنے والا کہتا ہے یہ میرے کھیت میں تھی مگر دوسرا کہتا ہے کہ اس کی جڑ میرے کھیت میں تھی اس لیے یہ میری ہے۔مگر خدا تعالی کی بادشاہت دنیا سے بالکل مٹ چکی ہے اور خدا تعالیٰ کے سپاہی کہلانے والوں میں اس کے متعلق کوئی درد نہیں ، کوئی غم نہیں اور وہ بالکل اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔پس ایک تو یہ بات ہے جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جماعت کو جس مستعدی سے کام کرنا چاہیے وہ موجود نہیں۔قرآن کریم نے ایسی بغاوتوں کے مقابلہ کے لیے جو انتظام کیا ہے اس کا نام دعوت رکھا ہے جسے اس زمانہ میں تبلیغ بھی کہا جاتا ہے مگر ہماری جماعت کو اس کی طرف وہ توجہ نہیں جو ہونی چاہیے۔کسی مجلس میں احمدیت کو پیش کر دینا یا کسی اعتراض کا جواب دے دینا اور بات ہے مگر قرآن کریم نے کیا لطیف بات پیش کی ہے۔فرمایا اپنی اپنی جگہ پر غور کرو کہ کیا تم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے؟ اگر تمہارے دل گواہی دیں کہ نہیں تو پھر باتیں بنانے سے کیا حاصل۔سو جماعت کے دوست بھی اس بات پر غور کریں کہ کیا وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔مثلاً لاہور کی جماعت ہے۔لاہور چونکہ ایک