خطبات محمود (جلد 38) — Page 52
$1957 52 خطبات محمود جلد نمبر 38 خانہ میں ایک ارب سات کروڑ سینتیس لاکھ اکتالیس ہزار آٹھ سو چو بیس روپے اور ابھی تیئیس خانے باقی رہتے ہیں۔ہم نے ایک دفعہ حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ چونسٹھویں خانہ میں نو پدم اکہتر کھرب نانوے ارب تک رقم پہنچ جاتی ہے اور یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ امریکہ جو بڑا دولتمند ملک ہے وہ بھی اتنا رو پیدا دا نہیں کرسکتا۔تو اگر ہر احمدی کوشش کرتا اور سال بھر میں ایک ایک شخص کو ہی احمدی بنانے کی کوشش کرتا تو چند سال کے اندراندر سارا سندھ احمدی ہو جاتا مگر میں دیکھتا ہوں کہ دوستوں کے اندر وہ تڑپ نہیں پائی جاتی جو ان کے اندر پائی جانی چاہیے۔بے شک نسلی بڑھوتی بھی ایک قابلِ قدر چیز ہے اور اس کے ذریعہ بھی قو میں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں۔مگر وہ ترقی اس طرح نہیں ہوتی جس طرح تبلیغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔نسلی ترقی کے لیے کہیں ہیں سال میں لڑکا جوان ہوگا اور اُس کی شادی ہوگی اور پھر اُس کے ہاں اولاد پیدا ہو گی لیکن روحانی بڑھوتی کے لیے ہیں سال کے انتظار کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر سال بڑھتی چلی جاتی ہے۔آپ لوگوں کے ہاں اگر ہر سال بھی ایک ایک بچہ پیدا ہو تب بھی وہ آگے بچہ رہنے کے قابل تب ہو گا جب کم سے کم پندرہ سال کا ہو گا۔اور پھر اُس کا بچہ تب بچہ پیدا کر سکے گا جب وہ بھی پندرہ سال کی عمر کو پہنچے گا۔گویا میں سال میں نسلی طور پر ایک سے تین بنتے ہیں۔لیکن اگر ہر شخص ایک ایک دو دو احمدی بناتا چلا جائے تو تمہیں سال میں سارے سندھ اور سارے مغربی پاکستان کے برابر احمدی ہو جاتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ جو احساس حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں پایا جاتا تھا کہ انہیں ایک وادی غیر ذی زرع میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ذکر کریں اور اُس کے خانہ کعبہ کی خدمت بجالائیں وہ احساس ہماری جماعت کے دوستوں میں نظر نہیں آتا۔بے شک ہم اس علاقہ کو وادی غیر ذی زرع نہیں کہہ سکتے کیونکہ زراعت کے لحاظ سے یہ بڑا زرخیز علاقہ ہے لیکن اسے غیر آباد ضرور کہہ سکتے ہیں۔وادی غیر ذی زرع مکہ کی وادی تھی جہاں گھانس کی ایک پتی تک بھی نہیں ہوتی تھی مگر اس کے باوجود نسل اسماعیل نے اپنے فرض کو سمجھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک اُن کی تین لاکھ تعداد ہوگئی اور اب تیرہ سو سال میں وہاں کی آبادی ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی ہو۔تو نسلی لحاظ سے بھی بے شک ترقی ہوتی ہے لیکن جو ترقی مذہبی اور روحانی رنگ میں ہوتی ہے وہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھا