خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 35

$1957 35 خطبات محمود جلد نمبر 38 بادام اور کشمش دیکھے ہیں تو انہوں نے دریافت کیا کہ بادام اور کشمش دیکھنے کا نتیجہ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے کہا بعد میں ہمیں کوئی خوشی پہنچی تھی۔اس پر انہوں نے لکھ لیا کہ اگر کوئی خواب میں بادام اور کشمش دیکھے تو اُسے خوشی پہنچتی ہے۔تو بعض رویا ایسی ہوتی ہیں جن کی تعبیر تسلسل کے قاعدہ کے ماتحت ہوتی ہے۔یعنی مسلسل لوگوں کو ایسی خوا میں آئی ہوئی ہوتی ہیں۔پس ان کا جو تجربہ ہوتا ہے اس کو لے کر معتبرین اپنی کتابوں میں درج کر لیتے ہیں۔مگر بعض ایسی رؤیا ہیں کہ جن کو فہم الہی سے حل کیا جاتا ہے۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام نے جو خواب کی تعبیر بیان کی وہ تعبیر الرؤیا کی کسی کتاب میں نہیں نکلے گی۔گو قرآن شریف کو دیکھ کر تعبیر الرؤیا والوں نے بھی اسے لکھ لیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تو قرآن کریم نہیں تھا۔حضرت یوسف علیہ السلام نے فہیم الہی سے اس کی تعبیر کی اور وہ پوری ہوگئی۔تو رؤیا کا جو علم ہے وہ بڑا نازک اور اہم ہے۔نہ تو عام طور پر رؤیا کے وہ لفظ پورے ہوتے ہیں جو انسان دیکھتا ہے اور نہ وقت اور تفصیل کی تعیین ہوتی ہے لیکن ہوتا کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔اور بعد میں پتا لگ جاتا ہے کہ اس کا کیا مقصد تھا۔گویا رویا پوری ہو کر اپنی حقیقی تعبیر کرتی ہے۔یا جو پہلے لوگوں کی رویا میں انہیں نقل کر کے معتبرین نے اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے۔اگر اس قسم کی رؤیا پوری ہو کر معبرین نے اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے۔اگر اس قسم کی رؤیا پہلے لوگوں کو نہیں ہوئیں تو تعبیر الرویا میں ان کے متعلق کچھ نہیں نکلے گا۔تعبیر الرؤیا کی کتابیں اس پر خاموش ہوں گی۔لیکن مومن یہ ضرور سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو چیز دکھائی ہے وہ میرے ایمان کی زیادتی کے لیے دکھائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کوئی فضول کام نہیں کرتا۔قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ عبث کام نہیں کرتاہے اور جب وہ کوئی عبث کام نہیں کرتا تو جب وہ کسی کو کوئی رؤیا دکھاتا ہے تو اس کی کچھ نہ کچھ ضرور تعبیر ہوتی ہے۔پس مومن کو اس رؤیا سے اپنے تو کل کو بڑھانا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی خبر خوشی پر دلالت کرتی ہے یعنی ایسے مضمون پر دلالت کرتی ہے جس سے خوشی پہنچتی ہے تو وہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے خوشی پہنچائے گا۔اور اگر کسی ایسے مضمون پر دلالت کرتی ہے جو غم کا موجب ہے تو پھر وہ یہ سمجھ لے کہ اگر چہ تعبیر الرویا سے اس کی تعبیر کا پتا نہیں لگا لیکن مجھے کوئی ایسا ر پہنچنے والا ہے جو میرے لیے غم کا موجب ہو گا۔لیکن قادیان کا دیکھنا ہر احمدی کے لیے خوشی کا