خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 25

$1957 25 خطبات محمود جلد نمبر 38 پ مخاطب حضرت اماں جان سے ہوتے ہیں ) کہ جب تم کو لے جائے تو اچھی گاڑی میں لے کر جائے۔عام معمولی گاڑی میں لے کر نہ جائے۔ނ یہ رؤیا اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جانا امرتسر کی طرف۔ہوگا۔لیکن رستے اصل چیز نہیں۔اصل چیز تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر ان علاقوں کو آپس میں ملا دے اور مسلمان عزت اور احترام کے ساتھ وہاں جائیں۔ہمارا ظاہری طور پر بھی ہمیشہ یہی خیال رہا ہے۔چنانچہ گاندھی جی نے اپنے مارے جانے سے پہلے میرے پاس لاہور میں اپنا ایک نمائندہ بھیجا تھا۔اور وہ مس مرد ولا سارا بائی 2ے تھیں۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ گاندھی جی کہتے ہیں کہ آپ کیوں چلے گئے۔ہم تو آپ کو اپنے علاقہ میں رکھنا چاہتے تھے۔میں نے کہا میں نے تو پنڈت نہر وصاحب سے مل کر بھی واضح کیا تھا کہ اس علاقہ میں امن قائم ہو تو ہم رہنے کو تیار ہیں لیکن وہ امن قائم نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا گاندھی جی کہتے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امن قائم کر سکیں۔وقت آیا تو وہ بیچارے آپ ہی مارے گئے۔میں نے کہا میں آنے کو تیار ہوں مگر قیدی کے طور پر نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ سارے مسلمانوں کو اجازت ہو اور سب مسلمانوں سے کہو کہ وہ آزادی سے اُسی طرح رہیں گے جیسے انگریزوں کے زمانہ میں رہتے تھے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی باؤنڈری نہیں ہوگی۔ہر مسلمان جو اب پاکستان میں ہے وہ اپنی جائیداد کو وہاں جا کر سنبھال سکے گا اور وہاں امن سے رہ سکے گا۔میں ایک تبلیغی جماعت کا امام ہوں میں وہاں قید میں نہیں رہ سکتا۔میں صرف اسی طرح آنے کو تیار ہوں کہ سب مسلمانوں کو کھلی اجازت ہو کہ وہ جائیں اور امرتسر میں ، گورداسپور میں، ہوشیار پور میں، فیروز پور میں ، لدھیانہ میں، جالندھر میں اور انبالہ میں آزادی سے اپنی جائیدادوں پر قبضہ کر لیں۔اگر آپ یہ آزادی دے دیں تو پھر بے شک میں اس پر غور کر سکتا ہوں۔وہ کہنے لگیں یہ تو امشکل ہے۔ہندو بڑا مخالف ہے۔میں نے کہا ہندو بڑا مخالف ہے تو ہوتا رہے میں قیدی کے طور پر نہیں آ سکتا۔میں تو جب آؤں گا ایسی شکل میں ہی آؤں گا کہ سارے مسلمان اُدھر آ سکیں اور ہر شخص آزادانہ طور پر وہاں رہ سکے اور سمجھے کہ یہ ملک میرا ہے۔یہ کہ مسلمانوں کو غلام کے طور پر رکھا جائے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔اور ایسی صورت میں میں مسلمانوں کو ہرگز یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ جائیں اور نہ میں خود جا سکتا ہوں۔اب تو خود مس مرد ولا سارا بائی نہرو جی کی زیر عتاب ہیں بلکہ میں