خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 228

$1957 228 خطبات محمود جلد نمبر 38 عرصہ تک اخبار پیغام صلح کے ایڈیٹر بھی رہے۔بہر حال پہلی مسجد احمد یہ جو بیرون دہلی دروازہ میں قریشی محمد حسین صاحب مفرح عنبری والوں کی برکت سے بنی سترہ مرلہ زمین میں تھی۔اس کے بعد ہم ہجرت کر کے یہاں آئے تو ایک عرصہ تک رتن باغ میں نماز جمعہ پڑھتے رہے۔پھر میں نے جماعت احمد یہ لاہور کو بڑے زور سے تحریک کی کہ لاہور میں ایک اور مسجد بنانے کی کوشش کرو جو بہت بڑی ہو۔لیکن کافی عرصہ تک اس پر کوئی عمل نہ ہوا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے جماعت احمد یہ لا ہور کو تو فیق دی اور انہوں نے زمین کا ایک ٹکڑا خرید لیا۔اس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ ساڑھے چھ کنال ہے۔اب دیکھو! گجا سترہ مرلہ زمین اور گجا ساڑھے چھ کنال۔گویا ہماری موجودہ مسجد پہلی مسجد سے قریباً آٹھ گنا بڑی ہوگی۔وہ صرف سترہ مرلہ میں تھی اور یہ ایک سو تھیں مرلہ میں ہو گی۔اور اگر گمٹی والی مسجد سے اس کا مقابلہ کیا جائے تو یہ اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔گٹی والی مسجد میں تو سات آٹھ نمازی ایک وقت میں نماز پڑھ سکتے تھے۔مولوی غلام حسین صاحب مرحوم اس مسجد کے امام تھے۔وہ احمدی ہو گئے تو انہوں نے اپنی مسجد جماعت کو وقف کر دی جو بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب نے غیر احمدیوں سے معاہدہ کر کے چھوڑ دی۔مولوی غلام حسین صاحب مرحوم بہت ہی نیک انسان تھے۔لیکن غریب بہت تھے۔ان کی عادت تھی کہ وہ کسی سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں ان کی مسجد میں گیا تو میں نے ان سے مصافحہ کرنا چاہا لیکن انہوں نے اپنا ہاتھ پیچھے کیچ لیا۔مگر یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔پھر انہوں نے اخلاص میں بہت ترقی کی۔1905 ء یا 1906ء میں مجھے بخار ہوا تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ اسے فوراً کسی پہاڑ پر بھیج دیا جائے۔چنانچہ میں اپنے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ شملہ چلا گیا۔مولوی غلام حسین صاحبہ مرحوم بھی وہاں آگئے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک نوجوان مجھ سے پڑھتا تھا۔وہ کہنے لگا کہ میں شملہ جات رہا ہوں۔اس لیے میں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا۔میں نے کہا میں بھی شملہ چل پڑتا ہوں وہاں تمہیں پڑھایا کروں گا۔اور روپیہ کی فکر نہ کرو۔میں اپنا کر ا یہ اپنی جیب سے ادا کروں گا۔غرض وہ بہت ہی نیک انسان تھے اور پڑھانے کا انہیں بے حد شوق تھا۔گمٹی والی مسجد کے وہی امام تھے اور بڑا اخلاص رکھتے تھے۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوسری مسجد دے دی جو پہلی مسجد سے بہت بڑی تھی اور اب ایک