خطبات محمود (جلد 38) — Page 204
204 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس واقعہ پر غور کر کے ہر شخص معلوم کر سکتا ہے کہ وہ لوگ جو احمدیت کے خلاف مختلف رنگوں کی میں غیظ و غضب کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ ہم احمدیوں کے گھر جلا دیں گے ، ان کا ای کھانا پینا بند کر دیں گے اور انہیں ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں گے اُن کا کیا مقام ہے اور ہمارا کیا مقام ہے؟ کوئی بتائے کہ کبھی احمدیوں نے بھی ایسا کہا کہ ہم غیر احمدیوں کے گھر جلا دیں گے اور اُن پر اُن کی زندگی تنگ کر دیں گے؟ لیکن ہمارے مخالف ہمیشہ یہی کہتے ہیں۔بلکہ 1953 ء میں انہوں نے عملاً ایسا کیا اور کئی احمدیوں کے گھر جلا دیئے۔اور اب تک یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہم ان کی زندگی ان پر ایسی تنگ کر دیں گے کہ ملک میں رہنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔جیسا پہلے انبیاء کے مخالف کہا کرتے تھے کہ ہم ان لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے اور ان کے لیے جینا دوبھر کردیں گے۔3 بعض منافق آجکل کہتے ہیں کہ ربوہ والے بھی بعض لوگوں کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں کہ اُن کا وہاں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔حالانکہ اگر یہ درست ہے تو اس کا علاج آسان تھا۔قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ اگر مومن کو کسی مقام پر شدائد میں مبتلا کیا جائے تو وہ وہاں سے ہجرت کر جاتا ہے 4 اور ہجرت کرنے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرْغَمًا كَثِيرًا وَسَمَةً - 5 جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے اُسے رہائش کے لیے وافر جگہ اور ہر قسم کی کشائش رزق حاصل ہوگی۔پس اگر کسی کو ربوہ کے رہنے والے مشکلات میں مبتلا کرتے ہیں تو ربوہ پاکستان کا نام نہیں۔وہ ربوہ کو چھوڑ کر لا ہور جا سکتا ہے، ملتان جاسکتا ہے، گجرات جاسکتا ہے، بہاولپور جا سکتا ہے، کراچی جا سکتا ہے، کوئٹہ جا سکتا ہے۔اسی طرح دوسرے مقامات پر جاسکتا ہے اور قرآنی وعدہ کے مطابق کشائش رزق حاصل کر سکتا ہے۔پھر اُس کے لیے کسی تشویش اور فکر کا کونسا مقام ہے۔پس یہ اعتراض محض قرآن کریم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ مومن ہوں گے اور کسی مقام سے ہجرت کریں گے تو اللہ تعالیٰ پنی برکتوں کے دروازے اُن کے لیے کھول دے گا اور ہر قسم کی کشاکش انہیں حاصل ہو گی۔اگر خدا تعالیٰ کے اس واضح ارشاد کے باوجود وہ ربوہ کو چھوڑ کر نہیں جاتے تو وہ خدا تعالیٰ کے نافرمان ہیں۔اور اگر ہجرت کے بعد خدا تعالیٰ ہر جگہ اُن کی عزت کے سامان پیدا نہیں کرتا اور ان کے لیے برکتوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے تب بھی وہ مومن نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ قرآن کریم نے صرف