خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 187

$1957 187 خطبات محمود جلد نمبر 38 دوست ہو چھ ماہ کے لیے آجاؤ اور میری جگہ کام کرو۔بہر حال اس نے مجھے کہا کہ آپ یہاں پہلی دفعہ می آئے ہیں یہ بڑا اچھا موقع ہے آپ پوپ سے ملاقات کی کوشش کریں۔ہمیں مسلمانوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا موقع مل جائے گا اور بالمقابل عیسائیوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا بھی موقع مل جی جائے گا۔میں نے کہا میں نے تو خود اس سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگر اُس کے سیکرٹری کی طرف سے جواب آ گیا ہے کہ پوپ صاحب کی طبیعت اچھی نہیں۔کہنے لگا آپ ایک دفعہ پھر انہیں میری خاطر لکھیں۔میں نے کہا اس کے معنے تو یہ ہیں کہ تم مجھے بے عزت کروانا چاہتے ہو۔کیونکہ اُس نے ملاقات کا موقع نہیں دینا۔کہنے لگا ہماری نظروں میں تو اس سے آپ کی عزت بڑھے گی کم نہیں ہوگی۔آپ اس ملک میں تشریف لائے ہوئے ہیں اور مناسب یہی ہے کہ پوپ سے بھی ملاقات ہو جائے۔میں نے اُس کے کہنے پر پھر خط لکھ دیا۔اس کے جواب میں اُس کے چیف سیکرٹری کی مجھے چٹھی آئی کہ پوپ کا محل آجکل زیر مرمت ہے اس لیے افسوس ہے کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے۔دو چار دن کے بعد پھر وہی ایڈیٹر ملنے کے لیے آیا تو اُس نے پوچھا کہ کیا پوپ کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔اُس نے یہ جواب دیا ہے۔تم پڑھ لو۔اس چٹھی کو پڑھ کر اسے بڑا غصہ آیا اور کہنے لگا کہ اب میں پنے اخبار میں اس کی خبر لوں گا۔میں نے کہا ایسا نہ کرو۔عیسائیوں نے شور مچادینا ہے اور تمہارے اخبار پر اس کا اثر پڑے گا۔کہنے لگا مجھے اس کی پروا نہیں۔میرے اخبار کو زیادہ تر سوشلسٹ خریدتے ہیں اور وہ ان باتوں پر بُرا نہیں مناتے۔چنانچہ دوسرے دن اخبار چھپا تو اُس میں اُس نے ایک بڑا مضمون لکھا کہ یہاں آجکل مسلمانوں کا ایک بہت بڑا لیڈر آیا ہوا ہے۔اُس نے پوپ کو خط لکھا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے ملاقات کا موقع دیا جائے تاکہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق باہم گفتگو ہو جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ موقع بڑا اچھا تھا اور اگر ملاقات ہو جاتی تو پتا لگ جاتا کہ ہمارے لیڈرا اپنے مذہب سے کتنے واقف ہیں اور مسلمانوں کے لیڈر اپنے مذہب سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں۔مگر پوپ کے چیف سیکرٹری نے اُس کا یہ جواب دیا کہ پوپ کامل آجکل زیر مرمت ہے اس لیے وہ ملاقات نہیں کر سکتے۔اس کے بعد اس نے طنزاً لکھا کہ ہم یقین کرتے ہیں کہ اب پوپ کا محل قیامت تک زیر مرمت ہی رہے گا۔مطلب یہ تھا کہ یہ بہانہ محض جھوٹا ہے۔اصل غرض ملاقات سے گریز کرنا ہے۔اب دیکھو روم عیسائیت کا گڑھ ہے مگر وہاں کے ایک بڑے بھاری اخبار نے پوپ کے