خطبات محمود (جلد 38) — Page 136
$1957 136 خطبات محمود جلد نمبر 38 وہ یہ ہے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔اور یہ بات محمد حسن چیمہ کے مضمون سے حل ہو جاتی ہے۔اس نے پیغام صلح میں ہمارے متعلق لکھا کہ چونکہ ان لوگوں میں تنظیم پائی جاتی ہے اس لیے یہ ترقی کر رہے ہیں۔اب اس الہام میں کوئی وجہ تو خدا نے معتین نہیں کی کہ میں کس وجہ سے ایک فریق کا ساتھ دوں گا۔اور جب خدا نے کوئی وجہ نہیں بتائی تو بہر حال ترقی کرنے کی کوئی بھی وجہ ہو وہ ہر حالت میں قابلِ قدر ہوگی۔اگر چیمہ کہتا ہے کہ مبائعین تنظیم کی وجہ سے ترقی کر رہے ہیں تو دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنے ہیں کہ چونکہ ان لوگوں میں تنظیم پائی جاتی ہے اس لیے خدا ان کے ساتھ ہے۔اب چاہے تنظیم کی وجہ سے خدا ہمارے ساتھ ہو یا مسجدیں بنوانے کی وجہ سے ساتھ ہو یا کسی اور وجہ سے ساتھ ہو بہر حال اُس کا ہمارے ساتھ ہونا ہماری صداقت کی دلیل ہے۔ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ ہم یہ بحث کرتے پھریں کہ غیر ممالک میں مسجدیں بنانے کی وجہ سے خدا ہمارے ساتھ ہے یا اپنے اندر تنظیم پیدا کرنے کی وجہ سے خدا ہمارے ساتھ ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جب وہ ہمارے ساتھ ہے تو لوگ اس طرف کیوں جائیں گے جس طرف خدا نہیں۔وہ تو لازماً اُس طرف جائیں گے جدھر خدا ہوگا۔جیسے ایک پرانے احمدی کا میں نے بارہا واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے قرآن کریم کی وہ دس آیتیں لکھ دیں جن سے حضرت مسیح کا آسمان پر زندہ جانا ثابت ہوتا ہے۔اُن دنوں حضرت خلیفہ اول سے مولوی محمد حسین صاحب بحث کے لیے شرطیں طے کر رہے تھے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ قرآن سے دلائل پیش ہوں گے اور مولوی محمد حسین صاحب کہتے کہ حدیث سے دلائل دیئے جائیں گے۔آخر بحث کو لمبا ہوتے دیکھ کر حضرت خلیفہ اول نے اتنا مان لیا کہ بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اِس پر بڑے خوش تھے کہ میں آخر انہیں حدیث کی طرف لے آیا۔جب یہ اُن کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب! مجھے قرآن کی وہ آیتیں لکھ دیجیے جن سے حضرت مسیح کی حیات ثابت ہوتی ہو۔تو مولوی محمد حسین صاحب کو غصہ آ گیا اور کہنے لگے میں اتنی دیر تک نور الدین سے بحث کرتا رہا۔وہ کہتا تھا قرآن سے اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہیے اور میں کہتا تھا حدیث سے۔آخر میں نے اُس سے منوالیا کہ حدیث بھی پیش کی جاسکتی ہے مگر تو پھر اس بحث کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔وہ آدمی