خطبات محمود (جلد 38) — Page 104
$1957 104 خطبات محمود جلد نمبر 38 کے موقع پر لوگ جمع کر لیے جاتے ہیں ) تا کہ سب مل کر ان حفاظ کو قتل کر دیں۔وہ شخص کہنے لگا کہ میرے رشتہ دار میرے پاس بھی آئے اور انہوں نے کہا کہ آج ثواب کا موقع ہے ، ہم نے ان صابیور کو مارنا ہے ( مسلمان کو وہ صابی کے نام سے پکارا کرتے تھے )۔میں نے کہا چلو! میں اُس وقت اسلام کو جانتا بھی نہیں تھا۔سینکڑوں آدمی ان مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے جمع ہو گئے اور مقابلہ میں وہ صرف چالیس افراد تھے۔کفار نے اُن پر تیر چلانے شروع کر دیے۔مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے ایک ہاڑی ٹیلہ پر چڑھ گئے۔کفار نے جب دیکھا کہ اُن کے تیر رائیگاں جا رہے ہیں تو انہوں نے تجویز کی کہ کسی طرح انہیں دھوکا دے کر نیچے اُتارا جائے۔چنانچہ ان کے افسر نے مسلمانوں کو پکار کر کہا کہ تم نیچے اتر آؤ ہم قسم کھاتے ہیں کہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔جو صحابی ان حفاظ کے سردار تھے وہ تو اپنی جگہ پر اڑے رہے اور انہوں نے کہا کہ کفار کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا لیکن حضرت ابوبکر کے غلام دھوکا جی میں آگئے اور وہ نیچے آگئے۔وہ مطمئن تھے کہ قسم کھانے کے بعد کفار انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔لیکن انہوں نے غداری کی اور انہیں اُترتے ہی نیزہ مار دیا۔جب وہ اس نیزے کی وجہ سے نیچے گرے تو بے اختیار ان کی زبان سے یہ فقرہ نکلا کہ فُرتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ 8 - کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔وہ شخص کہنے لگا مجھے یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی کہ اس شخص کو اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے سینکڑوں میل دور ایک اجنبی ملک میں کسمپرسی کی حالت میں قتل کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ قسمیں کھانے کے باوجود دھوکا بازی کی گئی ہے۔لیکن جب یہ زمین پر گرتا ہے تو کہتا ہے فُرْتُ وَرَبِّ الكعبة۔کعبہ کے رب کی قسم !میں کامیاب ہو گیا۔یہ کیا بات ہے؟ بہر حال اُس وقت تو میں خاموش رہا۔مگر میرے دل میں یہ بات گڑ گئی۔اس کے بعد میرے رشتہ داروں نے ان حفاظ کو باری باری قتل کیا اور ان میں سے جو شخص بھی نیچے گرا اُس نے یہی الفاظ کہے کہ فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ- کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔جب میں گاؤں میں واپس آیا تو میں نے اپنے ایک رشتہ دار سے دریافت کیا کہ تم نے ان لوگوں کو باری باری نہایت بے رحمی سے قتل کیا ہے۔وہ ایک اجنبی علاقہ کے رہنے والے تھے۔ان کے بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار اُن سے سینکڑوں میل دور تھے مگر اُس وقت بجائے ہائے میری بیوی ! ہائے میرے بچو! کہنے کے وہ فُرْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ کہتے ہیں۔میں اس کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔میرے اُس رشتہ دار نے کہا یہ لوگ پاگل ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد انہیں بڑا