خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 83

$1957 83 خطبات محمود جلد نمبر 38 بہت کمزور ہوں۔اب میرے لیے چلنا پھرنا مشکل ہے۔اب سنا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔تو مجھے افسوس ہوا کہ موٹر ہمارے پاس تھی۔ہم موٹر میں ہی انہیں منگوا لیتے یا ان کے گھر چلے جاتے۔تو یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے۔مومن کو چاہیے کہ وہ بچے معنوں میں مومن بننے کی کوشش کرے۔اگر وہ حقیقی مومن بنے تو اللہ تعالیٰ ضرور غیب سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جن سے اُس کا ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے۔اور درحقیقت ایسے ایمان کے بغیر کوئی مزہ بھی نہیں۔جس ایمان نے آنکھیں نہ کھولیں اور انسان کو اندھیرے میں رکھا اسکا کیا فائدہ۔جو اِس جہاں میں اندھا رہے گا وہ دوسرے جہاں میں بھی اندھا رہے گا۔اور جسے اس جہان میں آیات بینات نظر نہیں آتیں اُس کو اگلے جہان میں بھی آیات بینات نظر نہیں آئیں گی۔اس دنیا میں آیات بینات نظر آئیں تو دوسری دنیا میں بھی آیات بینات نظر آتی ہیں۔پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں اور ذکر الہی میں لگے رہنا چاہیے کہ وہ دن اُسے نصیب ہو۔اللہ تعالی اسلام اور اپنی ذات کی سچائی اُس کے لیے کھول دے اور اُس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منور چہرہ اور خدا تعالیٰ کا نورانی چہرہ نظر آ جائے۔جب یہ ہو جائے تو پھر رات اور دن اور سال، تکلیف کے سال ہوں یا خوشی کے سال ہوں اس کے لیے برابر ہو جاتے ہیں۔اور چاہے کچھ بھی ہو ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہتا ہے اور مطمئن رہتا ہے وہ کسی سے ڈرتا نہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھین والا مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ ہندو تھا۔آریوں نے اُسے ورغلایا اور کہا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ضرور کچھ سزا دے اور اُس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ بات سنی تو وہ ڈر گئے۔وہ کہنے لگے حضور ! بڑے فکر کی بات ہے۔آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔آپ کسی طرح قادیان تشریف لے چلیں اور گوداسپور میں مزید عرصہ نہ ٹھہر ہیں۔اگر آپ گورداسپور میں ٹھہرے تو مجسٹریٹ نے کل آپ کو کوئی نہ کوئی سزا ضرور دے دینی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا خواجہ صاحب! اگر میں قادیان چلا جاؤں تو وہاں سے بھی مجھے پکڑا جا سکتا ہے۔پھر میں کہاں جاؤں گا ؟ مجسٹریٹ کو اختیارات حاصل ہیں۔اگر قادیان گیا تو وہاں بھی