خطبات محمود (جلد 38) — Page 36
$1957 36 خطبات محمود جلد نمبر 38 جب ہے۔اب یہ کہ ہم قادیان کب دیکھیں گے اور آیا اسی کو ٹھے پر جا کے دیکھیں گے یا کسی باہر کے علاقہ میں دیکھیں گے یہ ساری باتیں تفصیل طلب ہیں۔ان کے متعلق تعیین کر لینا درست نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی رؤیا کو نظر انداز کر دینا بھی غلط ہے۔کیونکہ رویا جب دکھائی جاتی ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ ایمان اور تو کل بڑھانے کے لیے ہوتی ہے۔مگر چاہیے کہ مومن وقت اور تفصیل کے پیچھے نہ پڑے۔ہاں ! یہ یقین کر لے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے غیب سے کوئی خوشخبری ظاہر کرنے والا ہے۔جب مومن ایسا یقین پیدا کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَنَا عِندَظَنِ عَبْدِى ئی۔جیسا بندہ میرے متعلق گمان کرتا ہے میں بھی اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں۔وہ جب خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے خوشخبری دکھائی ہے اس لیے وہ میرے لیے ضرور خوشخبری پیدا کرے گا تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے اور اس کے لیے کی خوشخبری کے سامان پیدا کرتا ہے۔اس رویا میں جو نام ہیں وہ بھی قابل غور ہیں۔کیونکہ معتبر مین نے لکھا ہے کہ ناموں کے ساتھ بھی تعبیر کا تعلق ہوتا ہے۔اس رویا میں جو آدمی مجھے دکھائے گئے ہیں اُن میں سے ایک نام رحمت خاں ہے اور پھر وہ چودھری ہیں۔چودھری کا لفظ ہمارے ملک میں اعزاز کے لیے بولا جاتا ہے ہے۔پس چودھری رحمت خاں کے معنے ہوئے کہ بڑی رحمت۔دوسرا نام شاہ نواز ہے اور شاہ نواز کے معنے ہیں کہ جس کی خدا تعالیٰ نے قدر کی۔کیونکہ نواز نے کے معنے ہوتے ہیں کہ اُس کی قدر کی اور اُس کا رتبہ بڑھایا۔ہمارا شاہ تو خدا تعالیٰ ہی ہے۔پس شاہ نواز کے معنے ہوئے ایسا وجود جسے خدا تعالیٰ نے پسند کر لیا اور جس کو خدا تعالیٰ پسند کرے اگر اُس کو دیکھا جائے گا تو اس سے لازماً خوشی اور فرحت ہی پہنچے گی۔اور دوسری طرف رحمت بھی نظر آئے گی۔تو اس میں بھی خوشی ہو گی۔چنانچہ رویا میں میں نے چودھری رحمت خاں صاحب کا پنجہ پکڑا اور کہا میں آپ کی دیر سے تلاش کر رہا تھا۔اس میں گویا وہی مضمون آ گیا جوانی لَاَجِدُرِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَن تُفَنِدُونِ 4 میں آتا ہے۔یعنی مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اگر تم مجھے دیوانہ قرار نہ دو۔حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف کی تلاش تھی۔اور میں نے بھی رویا میں چودھری رحمت خاں صاحب سے یہی کہا کہ میں دیر سے آپ کی تلاش کر رہا تھا۔آج میں نے آپ کو پکڑ لیا ہے۔چنانچہ اس پر میں نے اُن کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور