خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 238

$1957 238 خطبات محمود جلد نمبر 38 نہیں تھا۔پہلے میرا خیال تھا کہ اُس وقت مفتی محمد صادق صاحب نے ترجمانی کا کام کیا تھا۔لیکن بعدی میں میرے داماد میاں عبدالرحیم احمد کے والد پروفیسر علی احمد صاحب نے جو پچھلے سال فوت ہوئے ہیں بتایا کہ اُس دن میں قادیان میں تھا اور میں نے ایم۔اے پاس کیا ہوا تھا۔میں نے اُس وقت ترجمان کی کے فرائض سرانجام دیئے تھے۔بہر حال وہ دونوں میاں بیوی قادیان آئے۔ملاقات کے دوران میں اس امریکن نے کہا کہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہے لیکن پہلے مسیح نے تو کئی نشانات دکھائے تھے۔آپ بھی ہمیں کوئی ایسا نشان دکھا ئیں جو آپ کی صداقت کا ثبوت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی انگلی اٹھائی اور اُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا آپ دونوں میاں بیوی میرا ایک نشان ہیں۔اُس امریکن نے کہا ہم دونوں کیسے نشان ہو سکتے ہیں، ہم تو عیسائی ہیں اسلام کو ماننے والے نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا آپ میری فلاں کتاب لے جائیں اور کسی سے پڑھا کر دیکھیں۔اس میں میرا ایک الہام چھپا ہوا ہے کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ 4 یعنی دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ تیری زیارت کے لیے آئیں گے۔اب امریکہ بھی دنیا کا ایک گوشہ ہے جہاں سے آپ دونوں آئے ہیں۔اب آپ بتائیں کہ آپ دونوں کو کس طاقت نے یہاں بھیجا ہے؟ قادیان میں تو کوئی دیکھنے والی چیز نہیں۔اگر محض سیر کے لیے کسی شہر میں آپ نے جانا ہوتا تو آپ بمبئی اور کلکتہ وغیرہ شہروں میں جاسکتے تھے۔پھر آپ بتائیں کہ پ جب قادیان آرہے تھے تو رستہ کیسا تھا ؟ وہ کس قدر خراب اور شکستہ ہے اور یہ محض لوگوں کثرت سے آنے کی وجہ سے ہی ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس الہام میں مجھے اس بات کی چالیس سال قبل خبر دے دی تھی۔وہ امریکن بہت گھبرایا اور کہنے لگا یہ بات تو سچ ہے کہ رستہ بڑا خراب تھا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک پادری قادیان آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس وقت وہاں بیٹھے ہوئے تھے جہاں آجکل مدرسہ احمدیہ کی عمارت ہے۔شاید کوئی جلسہ تھا یا کوئی اور بات تھی۔وہ جی پادری احمدیت کا بہت بڑا دشمن تھا۔اُس نے بعد میں ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ”مائی وزٹ ٹو قادیان (My Visit To Qadian ہے۔اُس سے بھی اس پیشگوئی کا ذکر ہوا تو وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا آپ نے ٹھیک کہا ہے میں اسی طرح کی سڑک چل کر آیا ہوں۔تو دیکھو! اللہ تعالیٰ کی مدد کے رستے کیسے عجیب ہوتے ہیں۔جب وہ دینے پر آتا ہے تو اس طرح دیتا ہے کہ اس کا پہلے خیال