خطبات محمود (جلد 38) — Page 205
$1957 205 خطبات محمود جلد نمبر 38 دو اصول بیان فرمائے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر وہ مومن ہیں اور کسی مقام پر ان کو شدید تکالیف میں مبتلا کیا جاتا ہے تو انہیں ایسے شہر میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے چھوڑ دینا چاہیے۔اور دوسرا اصول یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر ہجرت کے وقت ان کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا ؟ تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ خدا نے زمین میں بڑی وسعت رکھی ہے۔وہ جہاں بھی جائیں گے خدا تعالیٰ اُن کے لیے ہر قسم کی کشائش کے سامان پیدا فرما دے گا اور ان کی کامیابی کے رستے کھول دے گا۔پس اس قسم کا اعتراض کرنے والے دونوں صورتوں میں مجرم ہیں۔اگر واقع میں ربوہ والے مشرکین مکہ جیسے مظالم کرتے ہیں تو اُن کا ربوہ کو نہ چھوڑ نا انہیں مجرم بناتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ایسی بستی سے مومن کو ہجرت کر جانی چاہیے۔اور اگر ربوہ چھوڑنے کے بعد باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ترقی اور عزت نہیں ملتی تب بھی وہ مومن نہیں کہلا سکتے کیونکہ خدا کہتا ہے کہ جو شخص سچی ہجرت کرتا ہے اسے عزت ملتی ہے اور اُس کی ترقی اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔اور اگر خدا تعالیٰ کے کہنے کے باوجود ان کو عزت نہیں ملتی تو پھر دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے یا تو نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ کو جھوٹا کہنا پڑے گا یا پھر ان کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔اور یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔یہی ماننا پڑے گا کہ خود اُن کے اندر کوئی ایمان باقی نہیں رہا۔مثلاً انہی لوگوں کو دیکھ لو جو ہم سے پچھلے دنوں علیحدہ ہوئے ہیں۔وہ منہ سے تو نہیں مانتے لیکن عملاً یہی صورت ہے کہ پیغامی ان کی مددکر رہے ہیں۔مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ابھی ان کی علیحدگی پر پورا سال بھی نہیں گزرا۔گزشتہ اکتو بر میں میں نے ان کے اخراج کا اعلان کیا تھا۔گویا صرف ایک سال ہوا ہے۔اس تھوڑے سے عرصہ پر قیاس کرتے ہوئے فرض کر لینا کہ انہیں ہمیشہ کے لیے عزت حاصل ہو گئی ہے محض خام خیالی ہے۔کم از کم تین چار سال تک وہ باہر رہیں اور خدا تعالیٰ ان کی ہر قدم پر مدد کرتا رہے تو پھر بے شک کوئی بات بھی ہے ورنہ عارضی طور پر تو شیطان بھی بھترے 6 دے دیتا ہے۔آخر پیغامیوں نے ہی ان کو ورغلا یا تھا۔اگر وہ اس وقت ان کی کوئی مدد نہ کریں تو انہیں اپنی بدنامی کا ڈر ہے۔اس اصل مدد کا پتا اُسی وقت لگے گا جب تین چار سال گزر جائیں گے۔پھر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ان کی مدد عارضی تھی یا مستقل۔مصری صاحب کو دیکھ لو! پیغا میوں نے کس زور شور سے انہیں اپنے سر چڑھایا تھا۔مگر اب ان کی کوئی عزت ان میں باقی نہیں رہی۔وہ اس اُمید میں اُن کے پاس گئے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کا