خطبات محمود (جلد 38) — Page 203
$1957 203 28۔خطبات محمود جلد نمبر 38 قرآن مجید کی رُو سے الہی جماعتوں کا مقام جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے اُسے وہ وافر جگہ اور ہر قسم کی کشائش عطا فرماتا ہے فرموده 4 /اکتوبر 1957ء) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے شیطان کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو اُس نے اِس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اَنَا خَيْر مِنْهُ - 1 میں آدم کو کس طرح سجدہ کر سکتا ہوں۔میں تو اُس سے بہتر ہوں۔کیوں بہتر ہوں؟ اس لیے کہ خَلَقْتَنِی مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِين - 2 میری فطرت میں تو نے آگ پیدا کی ہے اور اس کی فطرت میں تو نے طینی مادہ رکھا ہے۔طین اُس مٹی کو کہتے ہیں جس میں پانی ملا ہوا ہو۔اور جس مٹی میں پانی ملا ہوا ہو اُس سے جو چاہو بنالو۔لوگ ایسی مٹی سے قسم قسم کے کھلونے اور گھوڑے وغیرہ بناتے ہیں اور جس شکل میں چاہتے ہیں اُسے ڈھال لیتے ہیں۔پس اُس نے کہا کہ آدم کو تو تو نے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے اور میری فطرت میں تو نے آگ کا مادہ رکھا ہے۔یعنی آدم کو تو جو بات بھی کہی جائے وہ مان لیتا ہے اور اطاعت اور فرمانبرداری کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے۔مگر میرے اندر سرکشی کا مادہ اور غصہ پایا جاتا ہے۔میں کسی دوسرے کی اطاعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔پھر میرا اور اس کا جوڑ کیا ہے؟