خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 163

خطبات محمود جلد نمبر 38 163 معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ على حَسْبِ الإخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے“۔2 $1957 مگر اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے باوجود میں دیکھتا ہوں کہ تھوڑی سی مصیبت بھی آتی ہے تو جماعت کے بعض دوست گھبرانے لگ جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ مشکلات آدم کے وقت میں بھی تھیں، نوح کے وقت میں بھی تھیں، ابراہیم کے وقت میں بھی تھیں ، موسی کے وقت میں بھی تھیں، عیسی کے وقت میں بھی تھیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی تھیں۔جب آج بھی وہی خدا موجود ہے جو اُن کے زمانہ میں تھا تو کیا وجہ ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں۔کیا ہمارے ایمان اتنے بھی نہیں جتنے موسٹی کے ماننے والوں کے تھے یا عیسی کے ماننے والوں کے تھے یا شعیب اور زکریا اور ہوڈ کے ماننے والوں کے تھے یا ابراہیم کے ماننے والوں کے تھے یا نوح کے ماننے والوں کے تھے ، یا آدم کے ماننے والوں کے تھے؟ ان کے ماننے والوں نے اللہ تعالیٰ پر اپنی اُمید قائم رکھی اور آخر انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔بلکہ اُن پر وہ زمانہ بھی آیا جب کفار نے یہ خیال کر لیا کہ ان پر کوئی عذاب نہیں آئے گا اور جو خبریں اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے ان کی تباہی کے متعلق دی تھیں وہ بالکل جھوٹی تھیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَتَّى إِذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمُ نَصْرُنَا - 3 غلطی سے بعض لوگ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہو گئے اور مومنوں نے خیال کر لیا کہ اُن سے جو فتوحات کے دعوے کیے گئے تھے وہ جھوٹے تھے تو اچانک اُن کے کے پاس ہماری مدد آ گئی۔حالانکہ نہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مایوسی نبیوں کی طرف منسوب کی جاسکتی ہے اور نہ مومنوں کے متعلق یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا ہو کہ خدا تعالیٰ نے اُن سے جھوٹے وعدے کیے تھے۔در حقیقت اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ شرارت میں بڑھتے چلے گئے تو ایک طرف تو رسول اُن کی ہدایت سے مایوس ہو گئے اور دوسری طرف کفار بھی مطمئن ہو گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ ان سے جو عذاب کے وعدے کیے گئے ہیں وہ پورے نہیں ہوں گے اور نبیوں کی پیشگوئیاں غلط تھیں۔تب خدا تعالیٰ کی نصرت آگئی اور اُس نے ائمۃ الکفر کو تباہ کر کے رستہ صاف کر دیا۔