خطبات محمود (جلد 38) — Page 137
$1957 137 خطبات محمود جلد نمبر 38 نیک تھا۔اس نے مولوی صاحب کا یہ جواب سنا تو اس پر سکتہ کی سی حالت طاری ہو گئی اور تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا کہ مولوی صاحب! اچھا! پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔اور یہ کہہ کر وہاں سے واپس آ گیا اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔اسی طرح ایک مخلص انسان کہے گا کہ جب خدا مبائعین کیسا تھ ہے تو پھر جدھر خدا ہے اُدھر ہی میں ہوں۔وہ اس فریق کے ساتھ کیوں ملے گا جو مسلمان تو ہو مگر خدا اس کے ساتھ نہ ہو۔پس اصل چیز جو دیکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔اور جب کوئی شخص اس نقطہ نگاہ سے غور کرے گا تو اسے ہمارے متعلق اقرار کرنا پڑے گا بلکہ ایک ہندو تک کو بھی ماننا پڑے گا کہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہے اور انہوں نے ہمیشہ ترقی کی ہے۔1953ء میں مخالفت کا ایک عظیم الشان طوفان اُٹھا مگر اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہی کامیابی عطا فرمائی۔پھر انکوائری کمیشن میں خود جوں نے پیغامیوں کے متعلق کہا کہ ان کا مقام احراریوں کے ساتھ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام کہ خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے“۔مبائعین اور غیر مبائعین کے درمیان ایک فیصلہ کن الہام ہے۔یہ سوال کہ اختلاف کیوں ہوا اور اس کی کیا وجوہ تھیں؟ یہ ایک لمبا سوال ہے۔اصل بات جو دیکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اس اختلاف کے نتیجہ میں خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کے ساتھ ہو گیا اور جب خدا ایک کے ساتھ ہو گیا تو جس کے ساتھ خدا ہے اسے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوسکتی۔اگر خدا غیر مبائعین کے ساتھ ہے تو ان کے لیے کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں اور اگر خدا ہمارے ساتھ ہے تو ہمارے لیے کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں۔اب چاہے کسی غیر سے پوچھ لیا جائے کہ خدا غیر مبائعین کے ساتھ نظر آتا ہے یا مبائعین کے ساتھ تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہمیں تو خدا مبائعین کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور 1914ء سے لے کر اب تک وہ جو کام بھی کرتا ہے جماعت مبائعین کی تائید میں کرتا ہے۔بلکہ اب تو ”پیغام صلح نے بھی مان لیا کہ ہماری ترقی تنظیم کی وجہ سے ہے۔حالانکہ یہ ترقی خواہ کسی وجہ سے ہو اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ تنظیم کی وجہ سے خدا نے ہمارا ساتھ دیا ہے یا کسی اور وجہ سے۔ہمیں تو خدا سے غرض ہے۔