خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 111

$1957 111 خطبات محمود جلد نمبر 38 اگر وزارت میں ہمارا کوئی آدمی آ جائے تو وہ بڑا مفید ہو سکتا ہے۔مثلاً آج ہی شائع ہوا ہے کہ غانا کیا حکومت نے ساری افریقی حکومتوں کو دعوت دی ہے کہ ہم سب ایک مشترکہ اجلاس کریں۔اگر ہمارا کوئی کی آدمی وزارت میں آجائے تو دوسرے ممالک سے تعلقات پیدا کرنے کا موقع نکل سکتا ہے۔اور بالکل ممکن ہے کہ ہمارے تعلقات سوڈان کے وزراء سے بھی ہو جائیں ، لیبیا کے وزراء سے بھی ہو جائیں، حبشہ کے وزراء سے بھی ہو جائیں، لائبیریا کے وزراء سے بھی ہو جا ئیں اور ان سارے علاقوں میں تبلیغ کے نئے رستے گھل جائیں۔وہ لوگ ہیں تو بہت وسیع الخیال مگر لوگوں سے ڈرتے ہیں۔مثلاً لیبیا کے بادشاہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے ملک میں آپ لوگوں کا مبلغ آنے دوں گا۔لیکن بعد میں لوگوں سے ڈر گیا۔پس دعا کرو کہ تبلیغ کے جو نئے رستے گھل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان میں ہمیں کامیابی بخشے اور ان کے علاوہ اور بھی نئے راستے کھولے۔پھر دوست یہ بھی دعا کریں کہ ہمارا اردو ترجمہ القرآن عمدگی کے ساتھ شائع ہو جائے اور پھر تفسیر بھی لکھی جائے۔قرآن کریم کے تراجم میں سے روسی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اب امریکہ میں اس پر نظر ثانی ہورہی ہے۔انگریزی میں بھی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ڈچ زبان میں بھی ترجمہ شائع ہو چکا ہے، جرمن میں بھی شائع ہو چکا ہے، پینش زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔یہ پانچ تراجم ہو گئے۔ان کے علاوہ پرتگیزی اور اٹالین زبانوں میں بھی تراجم ہور ہے ہیں۔یہ دونوں ملا کر سات تراجم ہیں جو ہماری طرف سے یورپین زبانوں میں ہو چکے ہیں یا ہورہے ہیں۔پھر ہندی اور گورکھی زبانوں میں بھی تراجم ہو رہے ہیں۔اردو ترجمہ مکمل ہو جائے تو یہ دس تراجم ہو جائیں گے۔انڈونیشین زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ ہو رہا ہے، سواحیلی زبان میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے، لو گنڈ ا زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے ، اسی طرح اب مشرقی افریقہ سے یہ اطلاع آئی ہے کہ ٹانگا نیکا کے علاقہ کی زبان چونکہ دوسرے علاقوں سے مختلف ہے اس لیے وہاں کی زبان میں بھی ترجمہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ سارے تراجم شائع ہو گئے تو پندرہ بیس تراجم ایسے ہوں گے جو ہماری جماعت کی طرف سے شائع ہوں گے اور ان کے ذریعہ سے جو لوگ مسلمان ہوں گے ان کا ثواب ساری جماعت کو پہنچے گا۔کیونکہ یہ کام اسی طرح ممکن ہوا ہے کہ ہمارے ایک غریب سے غریب آدمی نے بھی اپنی تھوڑی بہت پونجی لا کے دے دی۔