خطبات محمود (جلد 38) — Page 65
$1957 65 خطبات محمود جلد نمبر 38 نے جو قربانیاں کیں اور ان کی وجہ سے جو عزت اسلام کو پہنچی وہ کیسے پہنچتی ؟ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا تھا کہ آپ کو مستقبل کا علم نہیں ہمیں مستقبل کا علم ہے۔جن لوگوں پر آپ کو اس وقت غصہ آ رہا ہے ان میں سے بعض مستقبل میں اسلام کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ حضرت عکرمہ کی مثال ہی لے لو۔وہ ابو جہل کے بیٹے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں دکھایا گیا تھا کہ ایک فرشتہ انگوروں کا ایک خوشہ آپ کے پاس لایا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ خوشہ کس کے لیے لائے ہو؟ تو اس نے جواب دیا میں یہ خوشہ ابو جہل کے لیے لایا ہوں۔آپ گھبرا گئے اور اس گھبراہٹ میں آپ کی آنکھ کھل گئی۔آپ نے کہا خدا تعالیٰ کا رسول اور خدا تعالیٰ کا دشمن کیا ایک ہی صف میں کھڑے ہیں کہ اس کے لیے بھی جنت سے انگوروں کا خوشہ آ رہا ہے اور اس کے لیے بھی جنت سے انگوروں کا خوشہ آ رہا ہے۔جب بعد میں عکرمہ مسلمان ہوا تو آپ نے فرمایا اب میری خواب کی تعبیر مجھ پر کھل گئی ہے۔ابو جہل سے مُراد اُس کا بیٹا عکرمہ تھا جو اسلام لایا۔پھر عکرمہ اپنے اسلام میں اتنا ترقی کر گیا کہ جب بعد میں عیسائیوں سے جنگیں ہوئیں تو ایک موقع پر بہت سے صحابہ شہید ہو گئے۔صحابہ نے خیال کیا کہ یکدم دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کیا جائے تا کہ وہ آئندہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔جو لوگ اس غرض کے لیے چنے گئے ان میں عکرمہ بھی تھے۔آپ نے اس کام کے لیے اپنا نام پیش کیا۔تاریخ میں آتا ہے کہ جس طرح عقاب چڑیا پر جھپٹا مارتا ہے اسی طرح یہ لوگ دشمن پر حملہ کر کے قلب لشکر میں پہنچ گئے لیکن دشمن کا لشکر تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ لوگ صرف ساتھ تھے۔دشمن کا لشکر دس ہزار کا تھا۔اس لیے یہ لوگ قلب لشکر میں تو پہنچ گئے اور جرنیل مرعوب ہو کر بھاگ گیا۔لیکن چونکہ یہ لوگ دس ہزار تلواروں میں سے گزر رہے تھے اس لیے زخمی ہو کر گر گئے۔جب جنگ کے بعد مسلمان ان لوگوں کی خبر لینے کے لیے گئے تو انہوں نے ان میں سے آٹھ دس زخمیوں کو میدانِ جنگ میں پڑے پایا۔باقی شاید دشمن کے دھکیلنے کی وجہ سے ادھر اُدھر ہو گئے تھے۔بہر حال مسلمانوں نے ان میں سے آٹھ دس آدمی زخمی ہونے کی صورت میں میدانِ جنگ میں پڑے دیکھے۔ملک گرم تھا اور شاید وقت بھی گرمی کا تھا اور پھر دس ہزار آدمیوں میں سے رستہ نکالنے اور تلواریں مارتے چلے جانے سے ان کے جسموں سے پسینہ بھی نکلا جس کی وجہ سے انہیں پیاس بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، زبانیں اُن کی باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ پانی کے لیے نڈر ا