خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 53

$1957 53 خطبات محمود جلد نمبر 38 حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا دصرف نسلی لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک تین لاکھ تک پہنچی۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کی جو روحانی نسل چلی اس کی تعداد آج ایک ارب سے بھی زیادہ ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت بھی تبلیغ پر زور دیتی اور ہر شخص ایک دو اور دو سے چار ہونے کی کوشش کرتا تو ساری دنیا پر آج مسلمان ہی مسلمان ہوتے اور ہر لحاظ سے انہیں غلبہ واقتدار حاصل ہوتا۔تم بھی اگر صحیح طریق پر کام کرو گے اور تبلیغ کو وسیع کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بڑھوتی بخشے گا اور تمہیں ترقی عطا کرے گا لیکن اگر غفلت سے کام لو گے تو تم وہ برکتیں حاصل نہیں کر سکو گے جو بچے خدمت گزاروں کو حاصل ہوا کرتی ہیں۔خدا کے لیے اپنے رشتہ داروں اور بہن بھائیوں کو چھوڑ دینا کوئی معمولی قربانی نہیں ہوتی۔اسی طرح خواہ کوئی ایک آنہ فی روپیہ چندہ دے رہا ہو تب بھی یہ ایک بڑی قربانی ہے۔گاندھی جی نے ایک دفعہ حساب لگا کر بتایا تھا کہ ہندوستان میں ایک فرد کی فی سال صرف چھ پیسے آمد ہے لیکن ہماری جماعت کو اگر تم دس لاکھ سمجھ لو تب بھی بارہ لاکھ روپیہ سالانہ تو صرف صدر انجمن احمدیہ کا چندہ ہوتا ہے اور تحریک جدید کا چندہ ملا کر سترہ اٹھارہ لاکھ رو پیر تک پہنچ جاتا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ بجائے چھ پیسے کے ہر احمدی ڈیڑھ روپیہ سے پونے دو روپیہ تک دے رہا ہے۔گویا جماعت میں داخل ہو کر انہیں رشتہ داروں کو بھی چھوڑنا پڑا اور مالی لحاظ سے بھی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔اگر ان قربانیوں کے باوجود کوئی شخص سستی سے کام لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کی طرف توجہ نہیں کرتا تو اس سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو سکتا ہے۔اس کو تو چاہیے کہ وہ ایسے طور پر اپنی زندگی بسر کرے اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت میں اس سرگرمی اور جوش سے حصہ لے کہ وہ سمجھے کہ اگر میں نے یہ کام نہ کیا تو میری زندگی میں کوئی مزا نہیں رہے گا۔1935ء میں ہم نے یہاں زمینیں خریدی تھیں اور اب 1956 ء گزر چکا ہے۔گویا ہمیں یہاں آئے ہوئے اکیس سال ہو چکے ہیں اور بعض اس سے بھی پہلے سے موجود ہیں۔چنانچہ بعض صحابی ایسے ہیں جو اڑتالیس اڑتالیس سال سے یہاں رہائش رکھتے ہیں۔اگر وہ سارے کے سارے پنے فرض کو ادا کرتے تو اب تک سندھ میں ہماری جماعت کی تعداد کروڑوں تک پہنچ چکی ہوتی۔اور اگر ہر سال پہلے سال سے دُگنا ہونے کی کوشش کرتے تو اکیس سالوں میں وہ کئی ارب تک پہنچ جاتے۔پس دوستوں کو اپنے اس فرض کی اہمیت کا احساس کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد