خطبات محمود (جلد 38) — Page 237
$1957 237 خطبات محمود جلد نمبر 38 جانا ہے تو وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے۔اور مکہ کے مخالفوں کی طرح کہتے کہ میں تو مرزا صاحب کا بچپن کا دوست ہوں مجھ سے پوچھو کہ بات کیا ہے۔اُس نے تو محض ایک دکان بنائی ہوئی ہے۔اگر ایمان بچانا ہو تو واپس چلے جاؤ وہاں تمہیں کفر والیا داور جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔میرے اپنے خسر مولوی عبدالماجد صاحب بھی ایک دفعہ قادیان آ رہے تھے کہ مولوی صاحب انہیں ریلوے اسٹیشن پر ملے اور انہیں واپس بہار بھیج دیا۔مولوی صاحب نے انہیں کہا ہم جانتے ہیں کہ یہ محض دکانداری ہے اور کچھ نہیں۔بعد میں وہ ہمیشہ اس بات پر افسوس کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر مجھ سے یہ غلطی نہ ہوتی اور میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بات مان کر واپس نہ چلا جاتا تو میں بھی صحابی ہوتا۔مجھے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے خراب کیا ہے۔تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی عادت تھی کہ وہ روزانہ اسٹیشن پر آتے اور اگر کوئی قادیان جانے والا انہیں مل جاتا تو اُسے ورغلاتے۔ایک دن اتفاقا انہیں قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا۔پیر بلٹی چھڑانے گیا ہوا تھا۔وہ ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اُسے جاملے۔پیرے نے واپس آکر بتایا کہ میں بلٹی کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی میرے پاس آئے اور کہنے لگے پیرے ! سناؤ تم نے قادیان میں کیا دیکھا ہے کہ وہاں بیٹھے ہو۔مفت میں تمہارا ایمان خراب ہو رہا ہے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ مولوی صاحب! میں پڑھا ہوا تو نہیں ہوں۔میں نے صرف ایک چیز دیکھی ہے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔میں آٹھ دس سال سے بلٹیاں چھڑا نے بٹالہ آیا کرتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ روزانہ اسٹیشن پر آتے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے ہیں۔شاید آپ کی یہاں آتے جاتے کئی جوتیاں بھی گھس گئی ہوں گی لیکن لوگ پھر بھی قادیان جاتے ہیں اور مرزا صاحب کی بیعت کر لیتے ہیں۔وہ بعض اوقات بیماری کی وجہ سے مسجد میں بھی نہیں آتے مگر لوگ دو دو گھنٹہ تک باہر بیٹھے رہتے ہیں۔اس سے پتا لگتا ہے کہ مرزا صاحب ضرور بچے ہیں۔اب دیکھو! جب خدا تعالیٰ کسی کی مددکرتا ہے تو وہ کیسے حیرت انگیز طریق پر اُس کی مدد کرتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دن ایک امریکن اور اُس کی بیوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے کے لیے قادیان آئے۔مولوی محمد علی صاحب باہر تھے اور قادیان میں اور کوئی انگریزی جاننے والا