خطبات محمود (جلد 38) — Page 236
$1957 236 خطبات محمود جلد نمبر 38 ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوریانی ایک مخلص آدمی تھے۔انہیں کسی نے اس ریزولیوشن کی اطلاع دے دی اور انہوں نے دوسرے دوستوں کو بتا دیا۔مولوی سید سرورشاہ صاحب نے یہ سارا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو جا کر سنا دیا۔آپ اُس وقت لیٹے ہوئے تھے۔جب مولوی صاحب نے آپ کو یہ واقعہ سنایا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یک لخت اُٹھ کر بیٹھ گئے۔آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا میں اُس کا شکار نہیں ہوں۔میں خدا کا شیر ہوں۔وہ خدا کے شیر پر ہاتھ تو ڈال کر دیکھے۔یہ الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اس قدر بلند ہوگئی کہ کمرہ کے باہر کے لوگ بھی چونک اٹھے۔بعد میں اسی مجسٹریٹ کو ایسی سزاملی کہ وہ ایک دفعہ لدھیانہ کے اسٹیشن پر مجھے ملنے کے لیے آب اور اُس نے روتے ہوئے مجھ سے معافی مانگی اور کہا میں سخت دکھ میں ہوں۔میں نے مرزا صاحب کے پاس معافی مانگنے کے لیے جانا تھا۔لیکن وہ تو اب فوت ہو چکے ہیں اس لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔آپ میرے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس عذاب سے نکال لے۔اگر یہ عذاب کچھ اور عرصہ تک قائم رہا تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔اب دیکھو! کجا یہ دعوای کہ میں مرزا صاحب کو قید کر کے چھوڑوں گا اور گجا یہ حالت کہ وہ عاجزانہ طور پر کہتا ہے کہ میرے لیے دعا کی جائے کہ خدا تعالیٰ مجھے دکھوں سے نجات دے۔تو دیکھو جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں خدا تعالیٰ اُن کی مدد کرتا ہے اور انہیں ایسے نشانات دکھاتا ہے جن سے اُن کا ایمان اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔قادیان ایک گاؤں تھا وہاں کئی قسم کی چیزیں دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔اس لیے لوگ باہر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پھل اور دوسرے تھے بلٹی یا پارسل کر کے بھیج دیا کرتے تھے۔چنانچہ میرے دفتر کے کارکن عبد اللطیف خاں کے دادا انوار حسین خاں صاحب لکھنؤ سے بڑے بڑے آم چن کر قادیان بھجوایا کرتے تھے۔میں نے اُن آموں میں پانچ پانچ سیر کا آم بھی دیکھا ہے۔اس قسم کا جو سامان ریل کے ذریعہ آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُسے سے لانے کے لیے اپنے ایک خادم پیرا نامی کو بٹالہ بھجوایا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ بٹالہ اسٹیشن پر آیا کرتے اور اگر انہیں کوئی ایسا آدمی مل جاتا جو کہتا ہے کہ میں نے قادیان