خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 213

$1957 213 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس لیے وہ تھوڑے بھی زیادہ ہیں۔تم عورتوں کی حفاظت کرو۔چنانچہ صحابہ نے آپ کی اس محبت کو محسوس کیا اور غزوہ احزاب میں اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے اوسان خطا ہو گئے۔6 میور جو بڑا بھاری عیسائی مصنف ہے اور کسی زمانہ میں یو۔پی کا گورنر بھی رہ چکا ہے۔اُس نے اسلام پر ایک کتاب لکھی ہے۔اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ جنگ احزاب میں کفار کا لشکر تو چودہ ہزار تھا اور مسلمانوں کا لشکر صرف بارہ سو تھا۔پھر بات کیا ہوئی کہ کا فرہار گئے اور مسلمان جیت گئے؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے اس پر غور کیا تو یہ بات میری سمجھ میں آگئی۔اس نے لکھا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کے بڑے سے بڑے سردار لوگوں کو جوش دلانے کے لیے کہتے تھے کہ جو لوگ خندق پار کر کے حملہ کریں گے ہم انہیں اپنی بیٹی دے دیں گے اپنا گھوڑا دے دیں گے، اپنی تلوار میں دے دیں گے۔چنانچہ کئی دفعہ دشمن کے سردار خندق کو پار کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے مگر اُن سے غلطی یہ ہوئی کہ جب خندق میں رستہ بن جاتا اور کافر سردار گود کر دوسری طرف چلے جاتے تو وہ سیدھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف چلے جاتے۔اگر وہ یہ غلطی نہ کرتے تو ضرور جیت جاتے۔کیونکہ جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف جاتے تھے تو مسلمان پاگلوں کی طرح خیمہ کے گردا کٹھے ہو جاتے تھے اور ایسی دلیری سے لڑتے تھے کہ بعض دفعہ کفار ڈر کے مارے خندق میں کود گئے اور اُن کی گردنیں ٹوٹ گئیں۔وہ گئے تو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے تھے لیکن جب خندق کے پاس کوٹ کر آئے تو اتنے گھبرائے کہ انہوں نے خندق میں لانگیں مار دیں اور وہ مارے گئے۔وہ لکھتا ہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کا عشق ہی تھا جس کی وجہ سے کفار کو شکست ہوئی۔اگر ان کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق نہ ہوتا تو وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکتے۔چھلا اب دیکھو! صحابہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کو سمجھ لیا۔مگر افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ اب ظاہری لڑائیاں نہیں ہیں صرف روحانی لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں پھر بھی ہم کمزوری دکھاتے ہیں اور ہمارے بھائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت سے جن میں ان کے اپنے بچوں کی زندگی ہے، ان کی بیویوں کی زندگی ہے، ان کے پوتوں پڑ پوتوں کی زندگی ہے بلکہ ان کی اپنی زندگی ہے غفلت کر جاتے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ نے یہ قربانی کی