خطبات محمود (جلد 38) — Page 188
$1957 188 خطبات محمود جلد نمبر 38 انکار پر بُرا منایا اور اس کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اب تو اس واقعہ پر بتیس سال گزرے چکے ہیں اور زمانہ روز بروز ترقی کرتا جارہا ہے اور اسلام سے عیسائیت کا بغض کم ہو رہا ہے۔ہم جب پہلی دفعہ گئے تھے اُس وقت لوگوں کو اسلام کی طرف اتنی توجہ نہ تھی۔اُس وقت میں نے لندن میں پہلی مسجد کی بنیاد رکھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔اب میں بیماری کے علاج کے لیے گیا تو اس کی مرمت بھی کروا دی ہے۔اس کے بعد اب ہیگ میں مسجد بنی ہے، ہیمبرگ میں مسجد بنی ہے اور تین چار اور مساجد بنانے کی کوشش میں ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے ان مساجد کے بنانے کی بھی توفیق دے دی۔تو یورپ کے دس بارہ مشہور مقامات میں ہماری مسجدیں بن جائیں گی۔وہ مساجد جو دوستوں نے خود بنالی ہیں وہ تو بہت زیادہ ہیں۔ایسٹ افریقہ میں دو بن چکی ہیں اور دو کی بنیادیں رکھی جا چکی ہیں۔انڈونیشیا میں دس پندرہ سال کے عرصہ میں چھپیں چھپیں بن چکی ہی ہیں، ویسٹ افریقہ میں تو اور بھی زیادہ ہیں۔اُن کو ملا کر سو سے زیادہ مسجد میں بن جاتی ہیں۔امریکہ میں بھی ایک مسجد ہے اور ایک اور مسجد بنانے کا ارادہ ہے۔ایک اور مسجد جو امریکہ کے ایک میاں بیوی نے اپنی جائیداد وقف کر کے بنوائی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔غرض دنیا کے مختلف ممالک میں ہماری جماعت کے ذریعہ مساجد بن چکی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور کئی مساجد تعمیر ہونے والی ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ شاید چند سالوں میں ہی ہزار ڈیڑھ ہزار مسجد بن جائے گی اور یہ کیفیت نظر آنے لگے گی کہ جو شخص بھی بیرونی ممالک کے سفر کے لیے نکلے گا وہ جس ملک میں بھی جائے گا یہ کہہ سکے گا (الفضل 7 ستمبر 1957 ء) 66 کہ یہاں احمدیہ مسجد موجود ہے۔1 : بنی اسرائیل : 80 2 : درثمین اردو صفحه 130 زیر عنوان " مناجات اور تبلیغ حق“ 3 : مولود صاحب ان سے مراد مولود احمد خان صاحب سابق امام مسجد لنڈن ہیں جو حضرت ماسٹر محمد آسان دہلوی کے بیٹے ہیں۔( تاریخ احمدیت جلد 18 صفحہ 229)