خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 182

$1957 182 خطبات محمود جلد نمبر 38 رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودا میں اسی مقام محمود کی طرف اشارہ ہے جو دنیا میں آپ کے ملے گا۔اور پھر اس مقام کے حصول کا طریق بیان گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا۔ان آیات میں گو ضمیر میں مفرد کی استعمال کی گئی ہیں اور بظاہر ان آیات کا خطاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مراد آپ کی امت کے افراد ہیں۔قرآن کریم میں ایسی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جہاں مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جاتا ہے مگر مراد آپ کی امت کے افراد ہوتے ہیں۔ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر فرد کو مخاطب کرتا اور فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے امتی ! تو نمازیں قائم کر۔خصوصاً سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے خوب تاریک ہو جانے کے وقت تک کی مختلف گھڑیوں میں۔اور اسی طرح فجر کے وقت قرآن کریم بھی پڑھا کر کیونکہ فجر کے وقت قرآن کریم کا پڑھنا ایک مقبول عمل ہے۔مفردات میں لکھا ہے کہ مَشْهُودًا کے یہ بھی معنے ہیں کہ ایسے آدمی کو شفا اور رحمت ملے گی۔پس دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ اُس کو دنیوی زندگی میں اعلیٰ مقام جو خوشی والا ہو گا ملے گا۔فجر کا وقت وہ ہوتا ہے جب اندھیرا جا رہا ہوتا ہے اور سورج کی روشنی نمودار ہونے والی ہوتی ہے۔لیکن اس جگہ فجر سے یہ مُراد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا نور پھیلنے کے سامان پیدا ہورہے ہوں اور کفر و الحاد کی تاریکیاں دور ہونے کا وقت آ جائے۔تو اُس وقت قرآن کریم کو خوب پھیلا ؤ اور اس کی دنیا میں اشاعت کرو۔علماء کہتے ہیں کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ اگر صبح کے وقت قرآن کریم کی تلاوت کی جائے تو اُس وقت فرشتے خدا تعالیٰ کا کلام سننے کے لیے آتے ہیں۔مگر یہاں پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے کون دیکھتا ہے اور اُن کا آنا جانا کس طرح ثابت کیا جا سکتا ہے۔عیسائی تو کہہ سکتے ہیں کہ محض ڈھکو سلے ہیں لیکن میں نے جو معنے کیے ہیں اور جو لغت عربی کی کتابوں کے عین مطابق ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ ان معنوں کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔میں نے اس آیت کے یہ معنے کیسے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اسلام کا نور پھیلانے کے سامان پیدا فرمائے تم قرآن کریم کی کی اشاعت کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔تب تم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے صحت اور رحمت ملے گی