خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 61

1957ء 61 خطبات محمود جلد نمبر 38 کام لیا مگر اس کے بعد جو تم پر حالت آئی خدا تعالیٰ اُس کو بھی تو دیکھتا تھا۔ جب بعد میں تم بگڑ گئے تو خدا تعالیٰ نے بھی تمہیں چھوڑ دیا۔ لیکن اگر تم دعا کرتے رہو گے تو اللہ تعالی تمہاری اس موجودہ حالت کو دیکھ کر دوبارہ فضل نازل کر دے گا۔ اور جب اس کے بعد تم اس دعا کی تکرار کرتے رہو گے تو فضل کی تکرار بھی ہوتی رہے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر دفعہ کا فضل تمہیں ایمان پر اور زیادہ مستحکم کر دے گا۔ اور اگر پھر کچھ کمزوری نفس کی حالت پیدا ہو گی تو پھر دعاؤں کی وجہ سے اس کا فضل نازل ہوگا اور انسان گا۔ اور زیادہ ایمان پرمستحکم ہو جائے گا اور اس طرح قیامت تک ہدایت کا سلسلہ جاری رہے گا پس تم خدا تعالیٰ سے دعاؤں میں خصوصاً قرآنی دعائیں مانگنے میں کبھی سستی نہ کرو کیونکہ ان کے اندر بڑی بھاری برکات ہیں اور ان میں ایسے ایسے مضامین بیان کیے گئے ہیں جو بعض دفعہ انسان کے ذہن میں بھی نہیں آ سکتے ۔ مثلاً ایک مومن جب خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اُسے خدا تعالیٰ پر اتنا بھی سکتے۔ یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ اے خدا! تو مجھے مرتد نہ کیجئیو بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں مرتد ہو ہی نہیں سکتا میں بڑا پکا مومن ہوں۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ - 4 تو ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دیجیو۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ یہ کہے کہ اے اللہ ! میں مسلمان تو ہو گیا ہوں مگر تو میرا انجام بھی بخیر کیجئیوں میں مروں بھی تو نیکوں میں مروں ۔ یہ نہ ہو کہ مجھ پر ایسی حالت طاری ہو کہ میں مرتے وقت گمراہ ہو جاؤں بلکہ میرے مرنے کی جو ساعت ہے اُس وقت بھی تیرا فضل ایسا نازل ہو کہ تیرے فرشتے مجھ پر نازل ہوں اور میرا دل ایمان سے پُر ہو۔ اب دیکھو! کیا کوئی مومن ایسی دعا خود اپنے ذہن سے تجویز کر سکتا ہے؟ یہ دعا خدا تعالیٰ ہی سکھا سکتا ہے جو دلوں کو جانتا ہے۔ ورنہ انسان تو یہ کہتا کہ میں یہ کیسے کہوں کہ یا اللہ ! مجھے بے ایمان کر کے نہ ماریوں میں بے ایمان ہو ہی کیسے سکتا ہوں۔ میں تو اتنا پختہ ایمان والا ہوں کہ میں سچائی کو بالکل نہیں چھوڑ سکتا ۔ اگر مجھے آروں سے بھی چیر دیا جائے تب بھی میں سچائی کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ سمجھتا تو یہی ہے مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ آروں سے چیرا جانا تو الگ رہا بعض اوقات وہ سوئی کی پچھن بھی برداشت نہیں کر سکتا اور ایمان کو چھوڑ جاتا ہے اور بے ایمانی پر قدم مار دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ دُعا کرتا رہے تو اُس کا حرج بھی کوئی نہیں۔ اگر اس کا ایمان واقع میں اتنا پکا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتا تب بھی اگر خدا تعالیٰ کی مدد آئے گی تو اُس کا ایمان اور زیادہ پکا ہوگا کمزور تو نہیں ہوگا۔ پس انسان کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ میرا ایمان بڑا مضبوط ہے میں ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔