خطبات محمود (جلد 38) — Page 60
1957ء 60 خطبات محمود جلد نمبر 38 دے دیتے ہیں یا بعض لڑکے جوش میں آ کر اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کر دیتے ہیں یا بعض والدین اپنے بچوں کو وقف کر دیتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس راستہ سے منحرف نہیں ہو سکتے ۔ چنانچہ کل ہی ایک باپ کا خط آیا ہے کہ میرے ہاں بیٹا ہوا ہے اور میں نے اسے پہلے ہفتہ میں ہی وقف کر دیا ہے۔ مگر ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں کہ بعض واقفین وقف سے بھاگ گئے اور بعض مرتد ہو گئے اور بعض واقفین اب بھی چٹھیاں لکھتے رہتے ہیں کہ انہیں وقف سے فارغ کر دیا جائے ۔ غرض نہ والدین کا کیا ہوا وقف کام آتا ہے اور نہ ان کا کیا ہوا وقف کام آتا ہے۔ اگر وہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ والی دعا کرتے رہتے تو شاید وہ وقف پر قائم رہتے اور ماں باپ کا ارادہ پورا ہو جاتا۔ مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم بڑے قابل آدمی ہیں ۔ ہم اپنی وقف کی روح کو ہمیشہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنے ماں باپ کے وعدہ کو ہمیشہ یاد رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ دعوای غلط تھا۔ شیطان نے اُن کے دماغ پر ایسی غفلت طاری کی کہ ایک وقت آیا کہ وہ اپنے وقف کو بھول گئے اور اپنے والدین کے وقف کو بھی بھول گئے اور نشوز اور نافرمانی کا طریق اختیار کر لیا۔ پس ہمیشہ یہ دعا کرتے رہو کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ اے خدا ! ہدایت تو ہمیں نصیب ہو گئی ہے لیکن ہم خالی ہدایت نہیں چاہتے بلکہ ہم دائمی ہدایت چاہتے ہیں۔ ہم اپنے دل پر ایمان کا عارضی غلبہ نہیں چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا دل کبھی بھی ایمان سے نہ پھرے۔ تا کہ ہم اور ہماری اولادیں تجھ سے چمٹی رہیں اور تو ہم سے چمٹا ر ہے اور تجھ کو دیکھ کر شیطان بھاگے اور ہمارے قریب نہ آئے۔ پس دائمی ہدایت کے حصول کا اصل ذریعہ یہی ہے جو رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ تم اس نکتہ کو یاد رکھو اور ہمیشہ اس طریق پر دعا کیا کرو۔ پھر اگر تمہارے اندر کمزوریاں بھی ہوں گی تو اللہ تعالیٰ ان کو دور فرمادے گا۔ بے شک ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جب میں نے اپنی زندگی وقف کی تھی یا جب نیا نیا احمدی ہوا تھا تو اُس وقت میں نے بڑے اخلاص کے ساتھ قدم اُٹھایا تھا۔ پھر وہ اخلاص ضائع کیوں ہو گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اُس وقت تم نے اخلاص سے