خطبات محمود (جلد 38) — Page 58
1957ء 58 خطبات محمود جلد نمبر 38 لیکن ان کی برکت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک شخص ملازم ہے وہ دعا کر رہا ہے کہ یا اللہ ! میری ترقی ہو جائے ۔ یا اللہ ! میری ترقی کی راہ میں جو دشمن روک بنے ہوئے ہیں اُن کو تو نا کام کر دے۔ یا اللہ ! میرے بیٹا نہیں ہوتا تو مجھے بیٹا عطا فرما۔ میری شادی نہیں ہوتی تو میرے لیے شادی کی کوئی کی صورت پیدا کر دے۔ میری تجارت گھاٹے میں ہے اس میں ترقی دے دے۔ تو ایسی وقتی ضرورتیں بے شک آتی رہتی ہیں لیکن جو دائمی ضرورتیں ہیں جن کا کسی خاص انسان سے تعلق نہیں بلکہ اُس کی آئندہ نسلوں سے بھی تعلق نہیں وہ قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ قرآن کریم کی جو دعا میں نے اس وقت پڑھی ہے اُس میں بھی انسان کی دائمی ضرورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اگر ہدایت مل گئی تو آئندہ ہمارے گمراہ ہونے کی کوئی صورت نہیں اور نہ ہماری اولاد کے گمراہ ہونے کی کوئی صورت ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ۔ انسانی دماغ اس قسم کا ہے کہ وہ مختلف حالات میں ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ کبھی وہ اخلاص میں ترقی کر جاتا ہے اور کبھی وہ اتنا گر جاتا ہے کہ حیرت آتی ہے کہ کسی زمانہ میں یہ شخص ایسے دعوے کرتا تھا اور اب یہ اتنا کمزور ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کاتب وحی کی مثال ایک نمایاں مثال ہے۔ صل علیہ زمانہ میں ہے شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا مقرب ہو گیا تھا کہ آپ اس سے اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے۔ لی اللہ علیہ سلم کا ان ہو اپنی لیکن ایک موقع پر قرآن کریم کی عبارت کے ساتھ جو اُس کو القا ہوا اور اُس کی زبان سے کچھ فقرے نکل گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی لکھ لو یہی وحی ہے تو وہ مرتد ہو گیا ہے اور اُس نے سمجھ لیا کہ آپ نے میرے لکھانے سے ہی وحی لکھ دی ہے، ضرور یہ انسانی کلام ہے۔ اُس نے یہ نہ سمجھا کہ زبان پر جو فقرہ جاری ہوا تھا وہ قرآن کریم کی وجہ سے ہوا تھا۔ قرآنی عبارت ایسی ہے کہ وہ اگلے فقرے آپ ہی آپ انسان کے منہ سے نکلوا دیتی ہے۔ شاعروں کو دیکھ لو کہ داد دینے والے بعض دفعہ ایسی اچھی داد دیتے ہیں کہ شاعر نے ابھی آدھا مصرعہ پڑھا ہوتا ہے کہ وہ اگلا آدھا مصرعہ خود پڑھ دیتے ہیں۔ اب اگر شعر کی وجہ سے کوئی انسان مصرعہ کا اگلا حصہ پڑھ سکتا ہے تو قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کی وجہ سے کیوں کوئی انسان اگلا فقرہ نہیں پڑھ سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی نے بھی قرآنی عبارت سے متاثر ہو کر اگلا فقرہ پڑھ دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وحی ہے اسے لکھ لو۔ اس پر اس نے خیال کر لیا کہ قرآن کریم انسانی کلام ہے الہی کلام نہیں اور وہ مرتد ہو گیا۔