خطبات محمود (جلد 38) — Page 45
خطبات محمود جلد نمبر 38 45 $1957 جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری جماعت مذہبی جماعت ہے۔ہمارا ان باتوں سے اس سے زیادہ کوئی تعلق نہیں کہ ہم ان کے متعلق اپنا خیال ظاہر کر دیں۔میرے ذہن میں ایک بات آئی تھی جو میں نے کہہ دی ہے۔اگر ملک کی سیاسی پارٹیوں کو نظر آئے کہ اس کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے چاہیے تو میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کریں اور گورنمنٹ کو توجہ دلائیں کہ وہ دھوکا میں نہ آئے۔خدا تعالیٰ نے جس طرف قدم چلا دیا ہے وہ اُسی پر قائم رہے کیونکہ اس میں مستقبل کی جھلک نظر آ رہی ہے۔اگر خدانخواستہ ہمیں ہمارے اقدام میں ناکامی ہوئی تو بعد میں ان حکومتوں کی امداد پر غور کر لیا جائے گا۔لیکن جب تک یو۔این۔او کوئی فیصلہ نہیں کر لیتی ہمیں اپنی موجودہ کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔اگر ہمیں ناکامی ہوئی اور پھر یہ حکومتیں صلح کرانے کے لیے آگے آئیں تو ہم سمجھیں گے کہ ان کے دلوں میں ہماری خیر خواہی تھی اور ہمیں یقین ہو جائے گا کہ یہ حق پر ہیں۔لیکن اس وقت جبکہ یو۔این۔او فیصلہ کر رہی ہے ان قوموں کا صلح کرانے کا ارادہ ظاہر کرنا صاف بتاتا ہے کہ ان کا مقصود صلح کرانا نہیں بلکہ در حقیقت ان کا مقصود پاکستان کو گرانا ہے۔باقی جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے میں یہی کہتا ہوں کہ ہماری کوشش اور سعی صرف دعاؤں تک ہی محدود ہے۔ہمارے ملک کی ایک بڑی لطیف مثال ہے کہ ملاں دی دوڑ مسیتے۔یعنی ملاں کو اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ دوڑ کر مسجد میں گھس جاتا ہے۔یہ بات بڑی سچی ہے۔مسجد سے زیادہ امن اور کہاں ہوگا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مسجد اقصی کے متعلق الہام ہوا کہ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا 3 اور قرآن کریم میں خانہ کعبہ کے متعلق بھی یہی آتا ہے کہ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا 4 بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ساری مساجد ہی امن والی ہوتی ہیں۔پس یہ بالکل سچی بات ہے جو اس مثال میں بیان کی گئی ہے لیکن ملاں" کی جگہ مومن کے الفاظ رکھ لینے چاہیں۔یعنی مصیبت کے وقت ہر مومن کی دوڑ مسجد تک ہوتی ہے اور اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ دعائیں کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔کیونکہ وہ دعائیں سنتا اور انہیں قبول کرتا ہے۔پس ہماری جماعت کے دوستووں کو دعائیں کرنی چاہیں کہ کشمیر کے قریباً نصف کروڑ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے منشا کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس پر کار بند ہونے کی توفیق دے۔اور ایسے سامان پیدا کرے کہ یہ لوگ جبری غلامی میں نہ رہیں بلکہ اپنی مرضی سے جس ملک کے ساتھ