خطبات محمود (جلد 38) — Page 34
1957ء 34 خطبات محمود جلد نمبر 38 سے یہ سمجھا تھا کہ ہم یمامہ یا حجر کی طرف ہجرت کریں گے۔ لیکن جو تعبیر ظاہر ہوئی وہ یہ تھی کہ مدینہ کی طرف آپ نے ہجرت فرمائی ۔ اب یہ تو نہیں کہ کوئی بھی ہجرت نہیں ہوئی۔ اگر ہجرت یمامہ یا ھجر کی طرف نہیں ہوئی تو مدینہ کی طرف تو ہو گئی۔ پس وہ لوگ جو یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رویا چونکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں اس لیے ہمیں کسی رد عمل کی ضرورت نہیں غلطی پر ہیں۔ تعبیر طلب کے معنے یہ ہیں کہ رویا کی تعبیر تو ضرور ہوتی ہے اور وہ پوری ہوتی ہے لیکن جو ظاہر میں شکل دکھائی جاتی ہے اس میں وہ اور ہوتی ہے۔ اب ہمیں نہیں پتا کہ وقت پر اللہ تعالیٰ کیا شکل دکھائے ۔ لیکن یہ تو پتا ہے کہ ضرور کچھ دکھائے گا۔ پس ان متواتر رویا ہونے کے یہ معنے نہیں کہ رویا میں جو چیز دکھائی گئی ہے بعینہ اسی شکل میں پوری ہوگی ۔ بعض دفعہ رو یا بعینہ اسی شکل میں پوری ہوتی ہے جس میں وہ دکھائی جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی اور شکل میں پوری ہوتی ہے جو بعض دفعہ ایک تسلسل کے ماتحت ہوتی ہے جس کے مطابق تعبیر نامہ والے اپنی کتابوں میں تعبیر میں لکھ دیتے ہیں ۔ تعبیر نامہ والوں نے یہی کیا ہے کہ مختلف لوگوں کی خوا ہیں انہوں نے جمع کیں اور پھر پوچھا کہ تمہاری خواہیں خواب کسی طرح پوری ہوئی تھی ؟ اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک کثیر تعداد نے یہ خواب دیکھی تھی اور پھر اس رنگ میں پوری ہوئی تو انہوں نے لکھ لیا کہ اس کی یہ تعبیر ہے۔ مثلاً گنا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نے گنا دیکھا۔ دوسرے شخص کو تلاش کیا۔ اُس نے بھی کہا میں نے گنا دیکھا۔ تیسرے کو تلاش کیا۔ اُس نے بھی کہا میں نے گنا دیکھا۔ اس طرح انہوں نے پچاس ساٹھ آدمی جمع کر لیے۔ جب پچاس ساٹھ آدمیوں کی خوا ہیں معلوم ہوگئیں تو پھر انہوں نے اُن سے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے کہا ہم کو غم پہنچا تھا۔ اس پر انہوں نے لکھ لیا کہ اگر کوئی خواب میں گنا دیکھے تو اُسے غم پہنچتا ہے۔ یا مثلاً خواب میں بلی دیکھنا ہے۔ انہوں نے بہت سے ایسے آدمی جمع کیے جنہوں نے خواب میں بلی دیکھی تھی اور پھر اُن سے دریافت کیا کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا ہم بیمار ہو گئے تھے ۔ اس پر انہوں نے تعبیر الرویا میں لکھ لیا کہ اگر کوئی خواب میں بلی دیکھے تو بیماری آتی ہے۔ اسی طرح چنا ہے۔ انہیں پچاس، ساٹھ سو آدمی خواب میں چنا دیکھنے والے ملے تو پوچھا اس کے بعد کیا ہوا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا ہمیں کچھ غم پہنچا تھا۔ اس پر انہوں نے لکھ لیا کہ اگر کوئی خواب میں چنا دیکھے تو اسے غم پہنچتا ہے۔ پھر انہیں خواب میں بادام اور کشمش دیکھنے والے ملے اور انہوں نے کہا ہم نے خواب میں