خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 33

1957ء 33 خطبات محمود جلد نمبر 38 وہ اپنی جگہ پر اچھی کتاب ہے اور بعض اور کتابیں بھی ہیں جن میں اپنی جگہ پر بڑے اعلیٰ درجے کے مضامین ہیں۔ چنانچہ اُس وقت میرے ذہن میں آئینہ کمالات اسلام بھی آتی ہے لیکن چشمہ معرفت کی یہ خوبی ہے کہ اس میں بہت سے مضامین چند سطروں میں آ جاتے ہیں اور چند چند سطروں کے بعد مضمون بدلتا چلا جاتا ہے۔ پس براہین احمدیہ اپنی جگہ پر اعلیٰ ہے اور بعض اور کتابیں اپنی جگہ پر اعلیٰ ہیں۔ مگر ان سب میں لمبے لمبے مضامین آتے ہیں لیکن ” چشمہ معرفت میں بہت سے مضامین کی تشریح آجاتی ہے اور چند سطروں میں آتی ہے۔ اس لیے میں نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا کہ اپنے رنگ میں وہ اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ اس رویا میں بھی میں نے اپنے آپ کو قادیان میں دیکھا اور یہ بھی اتنی جلدی دیکھا کہ ابھی پچھلے ہفتہ میں میں نے ایک رویا سنائی تھی کہ میں مسجد مبارک میں پھر رہا ہوں اور مولوی عبد الکریم صاحب خطبہ پڑھ رہے ہیں۔ اتنا تواتر جو خوابوں میں ہو رہا ہے اس کی بناء پر خیال آتا ہے کہ الہی منشاء ہورہا کے مطابق آسمان پر کوئی تحریک ہو رہی ہے۔ مگر ایک بات ہے جو میں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ دینا یہ ہے کہ رویا کے متعلق بہت سے لوگوں کا نقطہ نظر جدا گانہ ہوتا ہے۔ بعض لوگ جب کوئی رویا سنتے ہیں تا ہے بعض لوگ جب کوئی راستے ہیں تو ساتھ ہی اُس رویا کی بناء پر وقت کی تعیین بھی کر دیتے ہیں اور تفصیل کی بھی تعیین کر دیتے ہیں۔ اور یروت کی ہیں اور کرد۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رویا سنتے ہیں تو پھر بھی ان کی مایوسی دور نہیں ہوتی اور وہ کہتے ہیں رویا تعبیر طلب ہوتی ہے معلوم نہیں اس کا کیا مطلب ہوگا ۔ یہ دونوں نقطہ نگاہ اپنی اپنی جگہ پر غلط ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ رویا کا اصل مقصد یہ نہیں ہوا کرتا کہ لوگ تفصیل یا وقت کی تعیین کر لیں بلکہ رویا کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اُمید اور تو کل بڑھا لیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رویا تعبیر طلب ہوتی ہیں مگر آخر کچھ تعبیر تو ان کی ہوتی ہے۔ تعبیر کے تو محض یہ معنے ہیں کہ جن الفاظ میں رویا دکھائی گئی ہے ممکن ہے ان میں وہ رویا پوری نہ ہو لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کچھ بھی ظاہر نہیں ہوگا۔ دیکھو! جب مکہ والوں کی تکلیفیں بڑھ گئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ آپ نے ایک ایسی جگہ کی طرف ہجرت کی ہے جو کھجوروں اور چشموں والی ہے۔ آپ نے رویا کے ظاہری الفاظ کے مطابق یہ تعبیر کی کہ آپ کو یمامہ یا حجر کی طرف ہجرت کرنی پڑے گی۔ 1 مگر جب ہجرت ہوئی تو مدینہ ہوئی جو خود کھجوروں کی جگہ ہے۔ لیکن ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ میں نے رویا