خطبات محمود (جلد 38) — Page 24
1957ء 24 خطبات محمود جلد نمبر 38 غرض اس دفعہ میں نے اپنے آپ کو مسجد مبارک کے نچلے حصہ میں دیکھا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا بلکہ مولوی عبد الکریم صاحب کو دیکھا ہے کہ وہ کھڑے ہیں اور میں قیاس کرتا ہوں کہ وہ خطبہ پڑھ رہے ہیں اور مشرق کی طرف ان کا منہ ہے۔ پھر میں کوٹھڑی میں گھس کے گول کمرہ کی چھت پر چڑھ گیا اور وہاں جا کر میں نے اپنے ساتھیوں کے ذریعہ سے عورتوں سے کہلوایا کہ پردہ کر لو ہم لوگ اندر نماز پڑھانا چاہتے ہیں ۔ یہ جو مسجد کی تنگی دیکھی ہے یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو قادیان میں احمدیوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہی مسجد مبارک جو اس وقت وہاں کے لوگوں کے لیے بعض دفعہ جلسہ کے لیے بھی کافی ہو جاتی ہے عام نماز کے لیے بھی ناکافی ہو گی کیونکہ مولوی عبد الکریم صاحب نے بہت ہجوم کو دیکھ کر کہا لوگو ! سمٹ جاؤ ، رستہ چھوڑ دو کیونکہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ غرض اس رویا میں بھی قادیان جانے کا ذکر ہے۔ گو زیادہ تفصیل نہیں ۔ پہلی رویا میں زیادہ تفصیل تھی ۔ مگر بہر حال یہ بھی ایک مبارک رویا ہے اور مسجد مبارک کا دیکھنا بھی اچھا ہے۔ پھر کئی احمد یوں نے بھی جو قادیان سے آئے ہیں بتایا ہے کہ وہاں بھی بہت سے لوگوں نے اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے ایک دوست کے متعلق بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھی ہے کہ کسی نے کہا ہے کہ خلیفہ اسی مسجد اقصی میں آئے ہوئے ہیں اور لوگ اُن کو دیکھنے کے لیے وہاں جا رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور دوست کا سیالکوٹ سے خط آیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر کے لیے اپنے آپ کو والنٹیئرز کے طور پر پیش کرو۔ بہر حال یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ مناسب راستہ کونسا ہو گا جس سے ہمیں قادیان جانا ہوگا ۔ مگر ایک رؤیا مجھے پچھلے سال ہوئی تھی جس سے پتا لگتا ہے کہ امرتسر کا رستہ ہوگا۔ کیونکہ میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت اماں جان ہیں ۔ حضرت اماں جان ایک زیور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھا رہی ہیں اور کہتی ہیں یہ محمود نے میرے لیے بنوایا ہے اور ایک آدمی آج کل پتا لینے کے لیے کہ کیا حالات ہیں روزانہ امرتسر آتا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ محمود کو میری طرف سے کہہ دینا (حالانکہ میں بھی وہاں ہوں