خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 244

244 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 دو تین دن تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔لیکن باہر والے لوگ کئی کئی دن تک تکلیف اٹھاتے ہیں۔پس اصل تکلیف انہی کی ہوتی ہے۔ان کے مقابلہ میں ہماری ایک دو دن کی تکلیف کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اگر ہم اپنے فرائض کو سمجھیں اور جو گاڑی خدا تعالیٰ نے چلائی ہے اس کو منزل مقصود تک پہنچا دیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں حاصل ہوگی اور وہ ہمارے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو ہمیشہ سے اپنے مقربین کے ساتھ کرتا چلا آیا ہے۔۔حضرت خلیفۃ اسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ تھے اُن کی عادت تھی کہ وہ ضرورت مندوں کو دوسروں سے قرض لے کر دے دیا کرتے تھے اور جب وہ قرض واپس کرتے تو اصل روپیہ والوں کو پہنچا دیتے۔ایک دن ایسا ہوا کہ کسی نے اپنا روپیہ واپس مانگا لیکن اُن کے پاس روپیہ موجود نہیں تھا۔انہوں نے اُس شخص کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا تم بیٹھ جاؤ۔اللہ تعالیٰ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے ایک لڑکا گزرا جو حلوہ بیچ رہا تھا۔اُس بزرگ نے لڑ کے سے حلوہ خرید کر اُس شخص کو کھلانا چاہا جو روپیہ واپس لینے آیا تھا۔اس نے کہا آپ اس غریب کو کیوں پھنساتے ہیں؟ میرا تو قرض واپس نہیں ہوا اور اس سے پھر اُدھار لے رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میاں ! جہاں سے خدا تعالیٰ تمہارے لیے روپیہ بھیجے گا وہاں سے اس حلوہ کی قیمت بھی دے دے گا۔چنانچہ انہوں نے حلوہ خریدا اور اُسے کھلا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص آیا اور اُس نے ایک پڑیا اس بزرگ کو دی اور کہا کہ فلاں شخص نے اتنا روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔اس بزرگ نے پڑیا کھولی تو اس میں قرض واپس کرنے کے لیے تو روپیہ تھا لیکن حلوہ کی قیمت ادا کرنے کے لیے رقم نہیں تھی۔اس پر اُس بزرگ نے پیغامبر سے کہا میاں! میں نے آٹھ آنے حلوہ والے کے بھی دینے ہیں لیکن وہ اس میں نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ میر انہیں بلکہ کسی اور کا ہے۔اس پر پیغامبر واپس گیا اور اُس نے اس بزرگ کا پیغام روپیہ بھیجنے والے کو دے دیا۔اُس نے کہا اس پڑیا کے ساتھ ایک اٹھتی بھی تھی جو میں نے تمہیں دی تھی وہ کہاں گئی ؟ اُس نے اپنی جیب دیکھی تو اُسے اٹھنی مل گئی جو اس نے ان واپس آ کر اُس بزرگ کو پہنچادی اور کہا کہ یہ ٹھنی پڑیا کے ساتھ ہی تھی لیکن غلطی سے میری جیب میں ہی رہ گئی تھی۔پس انسان کا اصل سہارا تو خدا تعالیٰ ہی ہے اور وہی اپنے بندوں کی ضروریات کو