خطبات محمود (جلد 38) — Page 235
$1957 235 خطبات محمود جلد نمبر 38 اپنا گزارہ کیا کرتی تھی۔وہ گاؤں والوں کا سوت کا تا کرتی اور اُس سے جو آمد ہوتی اُسی سے وہ اپنی خوراک کا خرچ بھی چلاتی ، کپڑے بھی بناتی اور کچھ روپیہ بھی جمع کرتی۔اُس جمع شدہ روپیہ سے اس نے سونے کے کڑے بنوائے۔ایک دن ایک چور اُس کے گھر آیا اور وہ کڑے چرا کر لے گیا۔وہ عورت اس کا مقابلہ تو نہ کر سکی لیکن اُس نے اُس چور کو پہچان لیا۔کچھ عرصہ کے بعد اس عورت نے پھر مزدوری کی اور روپیہ جمع کر کے اُس نے اور کڑے بنوا لیے۔ایک دن وہ عورت گلی میں بیٹھی چرخہ کات رہی تھی کہ چور پاس سے گزرا اور اُس عورت کو دیکھ کر بھاگ پڑا۔عورت نے اُسے پہچان لیا اور آواز دی کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ تم نے میرے کڑے پرائے تھے۔میں تم سے صرف ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔چنانچہ وہ چور کھڑا ہو گیا۔اُس عورت نے اُسے مخاطب کر کے کہا دیکھو! میں نے محنت مزدوری کر کے کچھ رقم جمع کی تھی اور اس سے کڑے بنوائے تھے۔مگر تو وہ کڑے چُرا کر لے گیا۔میں نے پھر محنت مزدوری کر کے کڑے بنوا لیے ہیں لیکن تیرے جسم پر اب بھی وہی لنگوٹی ہے جو اس تی وقت تھی۔تو جو شخص نیکی اور تقوی پر قائم ہو اور خدائی احکام پر عمل کرنے والا ہوا گر اُسے کوئی نقصان بھی پہنچ جائے تو خدا تعالیٰ اُس کا ازالہ کر دیتا ہے اور اُسے سونے کے کڑے مل جاتے ہیں اور نقصان پہنچانے والے کے جسم پر لنگوٹی ہی رہتی ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ اس مسجد کے سلسلہ میں ایک شخص مخالفت کر رہا تھا۔وہ کہتا تھا کہ میں یہ مسجد نہیں بننے دوں گا۔لیکن اب وہ کہتا ہے کہ میری چھ کنال زمین بھی لے لو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں جو شخص کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔پس تم اس بات سے نہ گھبراؤ کہ تم بے بس ہو اور غریب ہو۔خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ہوتا ہے وہ بے بس اور غریب نہیں ہوتا۔بلکہ جو شخص اپنے آپ کو بے بس اور غریب سمجھے اُس سے زیادہ جاہل اور کوئی نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کرم دین کے مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے تو جس مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ تھا وہ آریہ تھا۔آریہ سماج نے ریزولیوشن پاس کر کے اُس مجسٹریٹ کے پاس بھیجا کہ یہ شخص ہمارا دشمن ہے اور ہمارے لیڈ لیکھرام کا قاتل ہے۔اب اس کا کیس آپ کے ہاتھ میں ہے اور ساری قوم کی نظر آپ پر ہے۔اگر آپ نے اس کو جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔چنانچہ اس مجسٹریٹ نے وعدہ کرلیا کہ میں مرزا صاحب کوضر ورسزا دوں گا۔