خطبات محمود (جلد 38) — Page 233
1957ء 233 خطبات محمود جلد نمبر 38 پھر بھی نہ نکلی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کا نام لے کر ہمارا کام نہیں بنا تو انہوں نے یا شیخ ہمدان کا نعرہ لگایا۔ شیخ ہمدان ایک بزرگ تھے جنہوں نے کشمیر میں اسلام پھیلا یا تھا لیکن کشتی اس نعرہ پر بھی باہر نہ نکلی ۔ تب انہوں نے آخری نعرہ یا پیر دستگیر کا لگایا ۔ اس نعرہ کا لگنا تھا کہ کیا عورتیں اور کیا مرد دیوانہ وار گود کر کشتی سے نیچے اتر آئے اور سب نے مل کر زور لگانا شروع کر دیا اور آخر وہ کشتی کو کھینچ کر آگے لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ تم بھی یا پیر دستگیر کا نعرہ لگا کر اس کام کو شروع کرو۔ لیکن یا درکھو! پیر دستگیر سے حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی مُراد نہیں بلکہ اس سے خدا تعالیٰ کا اپنا وجود مراد ہے جو حقیقی دستگیر ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میرے پاس ایک فقیر آیا اور اس نے کہا پیر دستگیر کے نام پر کچھ دو۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں اُس وقت وہاں تھا اس لیے میں نے اُس فقیر کو ڈانٹا کہ تم شرک کرتے ہو۔ لیکن وہ فقیر بہت ہوشیار تھا۔ اُس نے جھٹ کہا آپ تو یونہی ناراض ہوتے ہیں کیا خدا تعالیٰ کے سوا بھی کوئی دستگیر ہے؟ دراصل اس کی مراد تو حضرت سید عبد القادر جیلانی سے ہی تھی لیکن حضرت خلیفہ اول کے ناراض ہونے پر اس نے بات بدل دی اور حضرت خلیفہ اول نے چپ کر کے اُسے کچھ دے دیا۔ اسی طرح تم بھی اپنے دستگیر خدا کا نعرہ مارو اور سب مل کر اس کام میں لگ جاؤ۔ پھر تم دیکھو گے کہ اس عمارت کی بنیاد بھی رکھ دی جائے گی اور باقی عمارت کے لیے روپیہ بھی مہیا ہو جائے گا۔ جب انسان کسی کام کا پختہ ارادہ کرلے تو خدا تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے جن سے انسان ایسے کام میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ مجھے بعض اوقات علاج اور دوسرے کاموں کی غرض سے کراچی جانا پڑتا ہے۔ وہاں صدرانجمن احمدیہ کی ایک بلڈنگ ہے۔ میں اس بلڈنگ میں ٹھہرتا ہوں جس کی وجہ سے وہ اسے کرایہ پر نہیں دے سکتے ۔ میں نے خیال کیا کہ اگر وہاں میرا اپنا مکان بن جائے تو اُس مکان میں میں ٹھہرا کروں اور انجمن اس مکان کو کرایہ پر دے دیا کرے تا کہ اس سے کچھ آمد پیدا ہو۔ میں نے کراچی میں گیارہ سوگز زمین خریدی ہوئی تھی۔ لیکن مکان بنانے کی کوئی صورت نہیں تھی کیونکہ میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اُس کا بھی سامان کر دیا۔ ربوہ کے قریب میری کچھ زمین تھی جسے میں نے فروخت کر دیا اور اس طرح میری ضرورت پوری ہو گئی ۔ اگر ایک فرد کی خدا تعالیٰ اس