خطبات محمود (جلد 38) — Page 227
$1957 227 خطبات محمود جلد نمبر 38 لیکن ہم وہاں حاجیوں کو پانی پلایا کرتے تھے اور ہماری یہ خدمت بھی کچھ کم خدمت نہیں۔اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ بے شک حاجیوں کو پانی پلانا بھی ایک نیکی ہے مگر خدا اور اُس کے رسول پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا زیادہ افضل ہے اور یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے 1۔اسی ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مساجد کو وہی شخص آباد کرتا ہے جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ان کی تعلیم پر عمل کرے۔2 مگر ظاہر ہے کہ مسجد تبھی آباد ہو سکتی ہے جب وہ بنی ہوئی بھی ہو۔جب کوئی مسجد بنی ہی نہ ہوتو وہ آباد کیسے ہوگی۔اس بارہ میں تم اپنی مثال دیکھ لو پہلے لاہور میں ہماری صرف گمٹی والی مسجد ہوا کرتی تھی جو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم نے غیر احمدیوں سے معاہدہ کر کے چھوڑ دی۔اس کے بعد بڑی دیر تک یہاں کوئی مسجد نہ بنی۔جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو میں نے قریشی محمد حسین صاحب مفرح عنبری والوں سے کہا کہ یہاں مسجد بنانے کی کوشش کریں۔وہ بڑی ہمت والے آدمی تھے۔انہوں نے کی سترہ مرلہ زمین کے ایک ٹکڑا پر قبضہ کر لیا اور فوری طور پر مسجد کی بنیا درکھ دی۔اور بعد میں اس پر چالیس پینتالیس ہزار روپیہ خرچ کر کے ایک عمارت کھڑی کر دی۔یہ وہی مسجد ہے جو بیرون دہلی دروازہ میں ہے۔پھر اس نے بھرنا شروع کیا اور ایک وقت ایسا آیا جب اس میں ہزار ہزار ، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار نمازی آ جاتے تھے۔جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو لاہور میں صرف چند احمدی تھے جن کا خلافت ثانیہ سے تعلق تھا۔ایک شمس الدین صاحب تھے اور ایک ان کے بھائی تھے اور یا پھر میاں فیملی کے افراد تھے جو سیاں چراغ الدین صاحب کے تعلق کی وجہ سے خلافت کے ساتھ رہے۔میاں چراغ الدین صاحب کے ایک لڑکے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی بھی پیغامیوں میں شامل ہو گئے تھے۔ان کے متعلق میں نے ایک دفعہ دعا کی تو میں نے رویا میں دیکھا کہ وہ قادیان آئے ہیں اور میں نے انہیں ایک چار پائی پر لٹایا ہے اور کپڑا اُٹھا کر میں نے اُن کے پیٹ پر چھری پھیر دی ہے۔پھر خواب میں ہی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے تو بہ کر لی ہے۔میں نے یہ رویا میاں چراغ الدین صاحب کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔اس رؤیا کے چند دن بعد ہی حکیم محمد حسین صاحب نے بیعت کر لی۔اب تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میاں چراغ الدین صاحب کی ساری اولاد خلافت سے وابستہ ہے لیکن شروع شروع میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی پیغامیوں میں شامل ہو گئے تھے اور کچھ